جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے، پاکستانی ہائی کمشنر
کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے ٹورنٹو کے تاریخی البانی کلب میں منعقدہ ایک تقریب سے کلیدی خطاب میں کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مسابقتی اور پرکشش سرمایہ کاری کے شعبوں، بالخصوص کان کنی و معدنیات، آئی ٹی سے وابستہ خدمات، توانائی اور انفراسٹرکچر کواجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فورم پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات اور فوری نوعیت کے مواقع اجاگر کرنے کے لیے نہایت بروقت ثابت ہوا۔ ہائی کمشنر نے پاکستان اور کینیڈا کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں موجود نمایاں مگر ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے پاکستان کے مسابقتی اور پرکشش سرمایہ کاری کے شعبوں، بالخصوص کان کنی و معدنیات، آئی ٹی سے وابستہ خدمات، توانائی اور انفراسٹرکچر کواجاگر کیا۔ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کی مختلف کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کو اجاگر کیا جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، خلیجی ممالک اور بحیرہ عرب و بحرِ ہند کے ذریعے دنیا کے دیگر خطوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
ہائی کمشنر نے علاقائی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
1949 میں متنازعہ کشمیر خطے میں کینیڈا کے پہلے اقوامِ متحدہ امن مشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر تنازع کا پرامن حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن کے تحت آزاد اور منصفانہ استصوابِ رائے کے ذریعے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ خود کریں۔