ترلائی دھماکا، بھارت نے خودکش حملہ آور کو افغانستان میں تربیت دی، وفاقی وزیر
فوٹو رائٹرز
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ترلائی دھماکے کا خودکش بمبار پشاور کا رہائشی تھا جس کو بھارت نے افغانستان میں تربیت دی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ترلائی دھماکا کے شہدا کیلیے فاتحہ خوانی کی گئی، جے یو آئی کے مولانا عبد الغفور حیدری نے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔
اس کے بعد قومی اسمبلی معمول کی کاروائی معطل کرنے کی تحریک منظور کی گئی جبکہ وفاقی وزیر پارلیمانی نے اجلاس کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک پیش کی اور واقعے پر بحث کیلیے تحریک منظور کی گئی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ترلائی میں امام بارگاہ میں خودکش حملہ اور نے گارڈزپر فائرنگ کی جبکہ حملہ آور مسجد کے اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 33 نمازی شہید ہوئے جن میں بیشتر نوجوان تھے، نماز میں تعلیمی اداروں کے نوجوان زیادہ تھے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 150سے زائد ہے جبکہ واقعے میں آئی جی اسلام آباد کے کزن حسن شہید اور چچا زخمی ہوئے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حملہ آور یاسرخان کی شناخت کرلی گئی ہے جبکہ نوشہرہ سی ٹی ڈی نے چار دہشتگرد گرفتار کیے۔ مارے گئے دہشت گرد کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے کہ وہ بھی خود کش حملہ آور تھا۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور نے افغانستان سے تربیت لی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کی وجہ سے کئی ایسے واقعات روکے گئے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عبادت گاہوں کے حفاظتی ایس اوپیزہیں، سیکیورٹی گارڈز خود کش حملہ اور کو نہ روک سکے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں خود کش حملہ اور کو تربیت دی اور اس ساری کاروائی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔