سینٹرل جیل کراچی کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کا مبینہ طور پر نشے کی حالت میں شہریوں پر تشدد
سینٹرل جیل کراچی کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں شہریوں کو حبسِ بے جا میں رکھ کر تشدد کرنے کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مقدمہ متاثرہ شہری محمد فراز جیلانی کی مدعیت میں نیو ٹاؤن تھانے میں درج کر لیا گیا۔ مدعی مقدمہ کے مطابق وہ سینٹرل جیل کالونی میں رہائش پذیر اپنے ایک رشتے دار سے ملنے آیا تھا، اسی دوران اس کے دیگر دوست سید حسن، بصام قادر، محسن حسین اور عباد راشد بھی وہاں پہنچے۔
مدعی کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ احسان مہر نشے کی حالت میں وہاں آیا اور انہیں مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ مدعی کے مطابق احسان مہر نے جھگڑا کرتے ہوئے سینٹرل جیل کی موبائل طلب کی اور اس سمیت اس کے دوستوں کو دھکے مارے، بعد ازاں احسان مہر اور دیگر افراد نے انہیں زبردستی اغواء کر کے جیل کے اندر ایک کمرے میں منتقل کر دیا، جہاں موجود نامعلوم افراد نے ان پر تشدد کیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان نے متاثرین کے موبائل فون زبردستی چھین لیے جبکہ مدعی سے 40 ہزار روپے نقد بھی لے لیے گئے۔
مدعی کا کہنا ہے کہ انہیں منشیات اور اسلحہ رکھنے کے جھوٹے مقدمات میں بند کروانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ مزید یہ کہ ان کی زبردستی ویڈیوز بنوائی گئیں اور دباؤ ڈال کر یہ اعتراف کروایا گیا کہ وہ نشہ کرتے ہیں، جبکہ ان سے زبردستی معافی نامے پر انگوٹھے بھی لگوائے گئے۔
مدعی کے مطابق بعد ازاں موبائل فون واپس کر کے انہیں چھوڑ دیا گیا تاہم 40 ہزار روپے واپس نہیں کیے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں حبسِ بے جا، تشدد، جھگڑا کرنے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تاہم واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل احسان مہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔