آسام کے وزیر اعلیٰ کی ویڈیو پر ہنگامہ، اپوزیشن نے مسلم نسل کشی کی دعوت قرار دے دیا
بھارت میں ہندوتوا نظریے، بی جے پی کی سیاست اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم ایجنڈے پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا سوچ اب محض ایک نظریہ نہیں رہی بلکہ اسے ریاستی پالیسی کی شکل دی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست نشانہ ملک کی مسلم اقلیت بن رہی ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما مسلمانوں کی تصاویر پر فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دیوار پر نصب تصویر پر “No Mercy” (کوئی رحم نہیں) کے الفاظ بھی درج تھے، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “نسل کشی کی دعوت” قرار دیا ہے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ آسام کی اس ویڈیو کو محض سوشل میڈیا مواد قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے نفرت اور تشدد کو ہوا ملتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کی قیادت دانستہ طور پر مذہبی نفرت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی سیاست میں انتہا پسندی بڑھتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات اور ویڈیوز نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ بھارت میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے احساس کو بھی مزید گہرا کر رہے ہیں۔