لاہور: مین ہول میں گرکر ماں، بیٹی کے جاں بحق ہونے کا کیس: صلح کی بنیاد پر ملزمان رہا
ضلع کچہری لاہور میں بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے کا تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا۔
فیصلے کے مطابق ملزمان پروجیکٹ مینیجر اصغر علی، ہنزلہ سیفٹی انچارج اور احمد نواز سائٹ انچارج کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ کنٹریکٹر سلمان یاسین اور عثمان یاسین کو بھی پولیس حراست میں پیش کیا گیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ متوفی سعدیہ ساجد کے باپ اور مقدمہ مدعی ساجد حسین نے اپنا بیان قلمبند کرایا جبکہ متوفی سعدیہ ساجد کے شوہر اور ردا فاطمہ کے باپ غلام مرتضیٰ نے بھی بیان ریکارڈ کرایا۔ مدعی ساجد حسین نے بیان دیا کہ وہ بھاٹی گیٹ تھانے میں درج مقدمے کے مدعی ہیں، متوفی سعدیہ ساجد ان کی بیٹی اور ردا فاطمہ نواسی تھی۔
مدعی کے مطابق ملزمان سلمان یاسین اور عثمان یاسین نے انہیں اور ان کے داماد کو معاوضہ دیا، ان کے ملازمین کی جانب سے جو غفلت برتی گئی اس پر اللہ کی رضا کے لیے انہوں نے تمام ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
مدعی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ملزمان کے ڈسچارج کرنے، ضمانت دینے یا بری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں اور ان کا بیان بغیر کسی دباؤ اور آزاد مرضی سے دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ متوفی سعدیہ ساجد کے شوہر اور ردا فاطمہ کے باپ نے بھی بیان دیا کہ ملزمان پر ان کی بیوی اور بیٹی کے قتل بالسبب کا الزام ہے، تاہم ملزمان نے انہیں اور ان کے سسر کو دیت کی رقم دے دی ہے اور اللہ کی رضا کے لیے انہوں نے بھی ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
انہوں نے عدالت سے ملزمان کو ڈسچارج، بری یا ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا بیان دیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمہ مدعی اور متوفی کے شوہر کا بیان انتہائی اہم ہے تاہم انہیں دی گئی رقم دیت کے برابر نہیں ہے، اس لیے ملزمان کو اس مقدمے سے ڈسچارج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مدعی اور متوفی کے شوہر کے بیانات اور بیانِ حلفی ملزمان کو معاف کرنے کے ہیں اور مدعی ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔
عدالت نے تمام ملزمان کو پچاس پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا، گرفتار پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا۔ مدعی نے کہا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ تھانہ بھاٹی گیٹ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔