برطانیہ؛ افغان پناہ گزین 12 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کا مجرم قرار
افغان شری کو سزا اگلی سماعت میں سنائی جائے گی جو طویل قید اور ملک بدری ہوگی
برطانیہ میں 12 سالہ بچی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے والے افغان باشندے 23 سالہ احمد ملا خیل کو مجرم قرار دیدیا گیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 10 روزہ ٹرائل کے دوران جیوری کو متاثرہ بچی نے بتایا کا کہ جنسی حملے کے دوران وہ ملزم سے رکنے کی التجا کرتی رہی مگر وہ ہنستا رہا اور میرے ساتھ زبردستی عمل کرتا رہا۔
پراسیکیوٹر ڈینیئل اوسکروفٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے الٹا متاثرہ بچی پر ہی الزام ڈالنے کی کوشش کی جو کہ انتہائی گھناؤنا مؤقف تھا۔
ملزم نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اسے بچی کی عمر 19 سال لگی اور یہ اس کا پہلا جنسی تجربہ تھا، تاہم جیوری نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے احمد مُلاخیل نامی افغان زہری کو جنسی زیادتی، اغوا اور بچی کی نامناسب ویڈیو بنانے کے الزامات میں مجرم ٹھہرایا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو سزا اگلی سماعت میں سنائی جائے گی۔ جج کرسٹینا مونٹگمری کے مطابق اسے طویل قید کی سزا ہوگی۔
جج کرسٹینا کے بقول سزا کے بعد افغان شہری خودکار طور پر ملک بدری کا اہل بھی ہوجائے گا اور سزا مکمل کرنے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔
اسی مقدمے میں شریک ملزم ایک اور افغان پناہ گزین 24 سالہ محمد کبیر کو گلا گھونٹنے، اغوا کی کوشش اور جنسی جرم کی کوشش کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مُلاخیل مارچ 2025 میں فرانس سے کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا اور افغانستان میں پیش آنے والے “مسائل” کی بنیاد پر امیگریشن درخواست دے رکھی تھی۔
افغان شہری نے یہ سفاک عمل گزشتہ برس 22 جولائی کو نونیٹن میں انجام دیا تھا۔ جس پر آج سماعت مکمل ہوگئی۔