ترک پارلیمنٹ میدانِ جنگ بن گئی، وزیرِ انصاف کی تقرری پر ایوان میں لاتوں گھونسوں کی بارش
ترکیہ میں وزیرِ انصاف کی تقرری پر پارلیمنٹ کے اندر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
آکن گرلگ کو وزیرِ انصاف مقرر کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں سخت احتجاج کیا جس کے دوران بعض ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن ارکان نے آکن گرلگ کی تقرری کو متنازع قرار دیتے ہوئے انہیں حلف اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی۔ احتجاج کے دوران اراکین ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے اور ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ آکن گرلگ ماضی میں بطور چیف پراسیکیوٹر اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کر چکے ہیں، اس لیے ان کی بطور وزیرِ انصاف نامزدگی سیاسی طور پر جانبدارانہ فیصلہ ہے۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے صدر رجب طیب اردوان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آکن گرلگ نے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں اور ان کی تقرری آئینی طریقہ کار کے تحت کی گئی ہے۔
A brawl broke out in Turkey's parliament as opposition lawmakers tried to block Justice Minister Akin Gurlek from taking his oath following his controversial appointment https://t.co/DXjjAujvCH pic.twitter.com/9QEUF07ZUa
سیاسی مبصرین کے مطابق اس تقرری کے بعد ترکیہ کی سیاست میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔