اسرائیل نے ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ اقدام میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے دوران کیا، جہاں انہوں نے صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں اسرائیل کی رکنیت سے متعلق دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ ملاقات کے بعد جاری تصاویر میں نیتن یاہو اور مارکو روبیو کو دستخط شدہ دستاویز تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ایران کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر کے وسط میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت اس بورڈ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی اجازت دی گئی۔ غزہ میں اکتوبر سے ایک نازک جنگ بندی جاری ہے، جو ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کی منظوری سے عمل میں آئی تھی۔
ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق یہ بورڈ غزہ کے عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اس بورڈ کو عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی وسعت دی جائے گی۔ بورڈ کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں ہوگا، جس میں غزہ کی تعمیر نو پر غور کیا جائے گا۔
تاہم بعض ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی بورڈ کی جانب سے کسی علاقے کے انتظامی معاملات کی نگرانی نوآبادیاتی طرز کی یاد دلاتی ہے۔ مزید یہ کہ بورڈ میں کسی فلسطینی نمائندے کی شمولیت نہ ہونے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
ادھر غزہ میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے دوران بھی سینکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں۔