افغانستان سے دہشتگردی کا نیا خطرہ، پڑوسی ممالک الرٹ
ایک بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے کے امن کے لیے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے اور سرحد پار دراندازی و دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے یوروشیا ریویو کے مطابق افغانستان سے شدت پسند عناصر کی جانب سے حملے اور دراندازی معمول بنتے جا رہے ہیں جس سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں متاثر ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بار بار سرحدی کشیدگی کے باعث تاجکستان کی سرحدی نگرانی مزید مضبوط کرنا پڑی۔ جریدے کے مطابق افغانستان اب صرف داخلی عدم استحکام تک محدود نہیں رہا بلکہ مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بھی بنتا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں اور تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں۔ اس غیر مستحکم صورتحال کے اثرات ہمسایہ ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں، خصوصاً سرحدی خطرات اور اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔