باچاخان یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ گانے والے طلبا کو خارج کردیا گیا

باچاخان یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے 73 ویں اجلاس میں واقعے کی حوالے فیصلہ کیا گیا

فوٹو: فائل

باچا خان یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ گانے پر ڈسپلنری کمیٹی نے چار طالب علموں کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق باچا خان یونیورسٹی میں دو روز قبل چند طلبہ کی جانب سے بھارتی ترانہ پیش گایا گیا اور نعرہ بازی کی گئی اور بعد ازاں اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جامعہ کی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا جہاں کمیٹی کے 73 ویں اجلاس کے دوران واقعے میں ملوث فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے چار طالب علموں کو فوری طور پر جامعہ سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

باچا خان یونیورسٹی کی جانب سے اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مذکور چاروں طلبہ کی ہاسٹل سیٹس بھی فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ 13 فروری کو منعقدہ یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے 73 ویں اجلاس کی سفارشات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد واقعے میں ملوث طالب علموں کو جامعہ کی حدود میں ریاست مخالف نعرے بلند کرنے یونیورسٹی اور ہوسٹل سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی پر خارج کردیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ان طلبہ نے اشتعال دلانے اور قومی اتحاد کو پارہ کرنے کی نیت سے بھارت کا قومی ترانہ بھی گیا، واقعے کو ریکارڈ بھی کیا اور اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بھی کی جو غیرقانونی اقدام ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان طلبہ کی ہوسٹل سیٹس بھی منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر ہوسٹل خالی کردیں۔

 

Load Next Story