سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کی دھرنے کی کوشش ناکام، ایس ایچ او زخمی، متعدد کارکنان گرفتار
جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ایکشن لیا، بعد ازاں جماعت اسلامی نے کارکنان کو منتشر ہونے کی ہدایت کردی۔
پولیس کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اطراف کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کیے گئے تاہم شام کے وقت جماعت اسلامی کے کارکنان ریلی کی شکل میں آئے تو کورٹ روڈ کے قریب پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے بعد مرکزی ٹرک اور کارکنان نے پیش قدمی کی تو خضرا مسجد کے قریب پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ شروع کردی۔
پولیس نے جماعت اسلامی کے مرکزی ٹرک کو قبضے جبکہ متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ اور تشدد سے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے حکم پر پولیس نے فسطائیت کا مظاہرہ کیا مگر ہم اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ضیا الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ اسمبلی کے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، آج شام کے مذاکرات طے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد ہمیں مجبوراً یہ اقدام اٹھانا پڑا، برخلاف قانون کسی کو جانیکی اجازت نہیں ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہر گز نہیں، عوام سے اپیل ہے پرامن رہیں اور فساد پھیلانیوالوں کا آلہ کار نہ بنیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے قانون کی رٹ کو قائم رکھنا۔
بعد ازاں جماعت اسلامی کی قیادت نے دھرنا ختم کر کے کارکنان کو منتشر کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان نے بتایا کہ اتوار کے روز کراچی کے 10 مقامات پر دھرنا دیا جائے گا جبکہ جماعت اسلامی کے امیر رات گیارہ بجے اہم پریس کانفرنس کر کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔