اسرائیل کی مغربی کنارے پر قبضے کیلئے قانون سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
اسرائیل 1967کے بعد سے مغربی کنارے پر قابض ہےاور بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ قبضہ غیر قانونی ہے۔(فوٹو: فائل)
یروشلم/اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے سے متعلق اپنا نیا اقدام واپس لے، جسے انہوں نے “غیر قانونی” اور خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اتوار کو ایک پالیسی کی منظوری دی، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو ریاستی ملکیت کے طور پر رجسٹر کیا جا سکے گا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد زمین کے حقوق سے متعلق قانونی تنازعات کو شفاف انداز میں حل کرنا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس فیصلے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
پاکستان نے بھی اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس اشتعال انگیز فیصلے کو مسترد کرے اور اسرائیل کو قانون کا پابند بنائے۔
یورپی یونین نے بھی اسرائیل سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے ترجمان اینور ایل اینونی نے کہا کہ الحاق بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور یہ اقدام کشیدگی میں اضافہ کرے گا۔
سعودی عرب، مصر، قطر اور اردن سمیت کئی عرب ممالک نے بھی اس فیصلے کو امن کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اردن کے فرمانروا کنگ عبداللہ دوم نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ادھر فلسطینی اتھارٹی نے عالمی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ٹورک نے بھی حالیہ بیانات میں خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادی کا تناسب مستقل طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ماہِ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے اطراف سکیورٹی سخت کی جائے گی۔ حکام کے مطابق ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کیے جائیں گے، جن پر عمر کی حد مقرر کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں موجود مغربی کنارے میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جبکہ تقریباً تیس لاکھ فلسطینی بھی اسی علاقے میں آباد ہیں۔