امریکی طیارہ بردار بیڑہ ایرانی ساحل کے قریب پہنچ گیا، خطے میں خطرے کی گھنٹی
برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صلاحیت کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو مؤثر طریقے سے ناکام بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور جنگی سازوسامان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں اہم ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ USS Abraham Lincoln اب ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ چکا ہے۔
پہلے یہ بیڑہ ایران سے تقریباً 700 کلو میٹر کی دوری پر تھا، تاہم اب یہ فاصلہ کم ہو کر تقریباً 240 کلو میٹر رہ گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحری اور فضائی طاقت میں اس اضافے کا مقصد خطے میں عسکری برتری کو مستحکم بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور سفارتی کوششوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔