پاکستان اب بھی بھارت کو ہرا سکتا ہے، ٹیم کی بربادی کی ذمہ دار سلیکشن کمیٹی ہے، سینئر صحافی ایاز خان

موجودہ صورتحال 'بلنڈرز' کا نتیجہ ہے، ٹیم کی بربادی کے ذمہ دار عاقب جاوید، وہاب ریاض اور مصباح الحق ہیں، تجزیہ

اسلام آباد:

پاکستان کرکٹ کے موجودہ بحران اور روایتی حریف بھارت کے خلاف مایوس کن شکست پر ملک کے نامور صحافی ایاز خان پھٹ پڑے، انہوں نے پاکستانی ٹیم کی اہلیت پر اٹھنے والے سوالات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پی سی بی کے انتظامی ڈھانچے اور حالیہ فیصلوں کو ٹیم کی تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

ایکسپریس ڈیجیٹل کے مطابق ایاز خان کا کہنا ہے کہ وہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ پاکستان بھارت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیم کو غلط فیصلوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال 'انسانی غلطی' نہیں جان بوجھ کر کیے گئے 'بلنڈرز' کا نتیجہ ہے

ایکسپریس ڈیجیٹل کے لیے اپنے خصوصی تجزیے میں ایاز خان نے ٹیم مینیجمنٹ کی حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال 'انسانی غلطی' نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیے گئے 'بلنڈرز' کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس بہترین بینچ اسٹرینتھ موجود ہو اور آپ پھر بھی ناکام کھلاڑیوں پر تکیہ کیے رکھیں تو شکست آپ کا مقدر بن جاتی ہے۔

فخر زمان کو کیوں نہیں کھلایا؟

ایاز خان نے سوال اٹھایا کہ فخر زمان، جو ہمیشہ بھارت کے خلاف ایک 'ایکس فیکٹر' ثابت ہوئے ہیں، انہیں ایسے اہم ترین میچ میں کیوں نہیں آزمایا گیا؟ انہوں نے فہیم اشرف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک بالنگ آل راؤنڈر کو صرف بیٹسمین کے طور پر کھلا کر بالنگ نہ کروانا کپتان اور کوچ کی عقل پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ٹیم کی بربادی کے ذمہ دار عاقب جاوید، وہاب ریاض اور مصباح الحق ہیں

ایاز خان نے سلیکشن کے عمل کو مینیج کرنے والی تین اہم شخصیات عاقب جاوید، وہاب ریاض اور مصباح الحق کو ٹیم کی بربادی کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر فیصلے کرنے والی اس 'تکون' نے میرٹ کے بجائے اپنی 'پسند ناپسند' کو ترجیح دی، جس سے نہ صرف ٹیم کا توازن بگڑا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کا اعتماد بھی مجروح ہوا۔

ایاز خان نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی انتظامی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ان تین افراد کے سامنے اتنے بے بس ہیں کہ انہیں پورے ملک میں ان کا متبادل نہیں مل رہا، تو یہ ان کی اپنی انتظامی ساکھ اور عہدے کی توہین ہے۔

تجزیہ کار نے کہا کہ پریماداسا جیسی پچ پر جہاں مخالف ٹیم کے فاسٹ بالرز شارٹ پچ گیندوں سے وکٹیں لے رہے تھے، وہاں ہمارے پاس نسیم شاہ جیسے بالر کو ڈراپ کرنے کا کوئی اخلاقی یا تکنیکی جواز نہیں تھا۔ ایاز خان نے بیٹنگ آرڈر کی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک صائم ایوب، فرحان اور فخر زمان جیسے کھلاڑیوں کو ان کے درست نمبروں پر نہیں کھلایا جائے گا، نتائج نہیں بدلیں گے۔

انہوں نے بابر اعظم کی موجودہ فارم اور ٹیم میں ان کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اسٹار پرفارم نہیں کر رہا تو ٹیم کی خاطر اسے نیچے آنا ہوگا یا متبادل سوچنا ہوگا۔

پاکستان اب بھی بھارت کو ہرانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے

سابق بھارتی کرکٹرز اور میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ایاز خان نے پاکستانی شائقین کو امید دلائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "پاکستان اب بھی اس ٹورنامنٹ میں بھارت کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔"

ایاز خان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کروڑوں پاکستانیوں کے لیے محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے اور اسے ایک 'ہوبی' (Hobby) کے طور پر نہیں بلکہ مکمل 'پروفیشنلزم' کے ساتھ چلانا ہوگا۔ انہوں نے پی سی بی کو مشورہ دیا کہ وہ اب بھی ہوش کے ناخن لے اور غیر جانب دارانہ فیصلے کرے، ورنہ پاکستان کرکٹ مزید تنزلی کا شکار ہو جائے گی۔

Load Next Story