دنیا کے ہر مذہب میں روزہ اور رمضان کی خوشیوں کا منظر

رمضان ہمیں مساوات، ہمدردی، صبر، تقویٰ، پرہیزگاری اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ رحمت، برکت اور مغفرت کے اس مہینے کو خوش آمدید کہنے کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

اس ماہ مقدس میں مسلمانوں کی جانب سے اللہ رب العزت کا خصوصی قرب حاصل کرنے کے لیے نہ صرف عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ روزہ رکھ کر صبر، تقویٰ اور پرہیزگاری کا ثبوت بھی دیا جاتا ہے۔

اس ماہ میں رب کائنات نے مسلمانوں پر روزے فرض کیے ہیں، جس کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 183 میں موجود ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

اسی سورۃ کی آیت نمبر 187 میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا طریقہ بتاتے ہوئے فرمایا: ’’اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر کے وقت سیاہی کے دھاگے سے سفیدی کا دھاگا تم پر واضح ہو جائے، پھر رات آنے تک روزہ پورا کرو۔‘‘

قرآن کی دیگر سورتوں اور احادیث میں بھی مسلمانوں کے روزہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ روزہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان صبر، تقویٰ اور پرہیزگاری حاصل کرتا ہے۔

ان تمام معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سوال پیدا ہوتا ہے: مسلمانوں کے علاوہ دنیا میں کون سے ایسے مذاہب ہیں جن میں روزے کا تصور موجود ہے، اور ان مذاہب میں روزہ رکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

اس حوالے سے قدیم روایات اور تاریخی حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے کا تصور تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں موجود ہے، تاہم ان مذاہب میں روزہ رکھنے کے طریقہ کار تھوڑے مختلف ہیں۔

اگر عیسائی مذہب کی بات کی جائے تو عیسائیت میں روزہ توبہ، صبر اور حضرت عیسیٰؑ کی سنت کی پیروی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں لینٹ کے دوران مخصوص دنوں میں کھانے پینے یا بعض غذاؤں سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

ہندو مذہب میں روزہ جسمانی ضبطِ نفس، اعمال کی پاکیزگی اور دیوتاؤں کی خوشنودی کےلیے رکھا جاتا ہے، تاہم اکثر لوگ مکمل فاقہ نہیں کرتے بلکہ اناج، نمک یا بعض مخصوص غذاؤں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بزرگوں کی وفات، شوہروں کی درازیِ عمر پربھی روزہ رکھا جاتا ہے۔

بدھ مت میں روزہ خواہشات پر قابو پانے اور ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جس میں راہب دوپہر کے بعد کھانا ترک کر دیتے ہیں۔ سکھ مذہب میں رسمی روزے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، تاہم سادگی، خود ضبطی اور روحانی نظم و ضبط پر زور دیا جاتا ہے۔

یہودی مذہب میں روزہ توبہ، خود احتسابی اور قومی و مذہبی سانحات کی یاد کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ یومِ کِپُور سب سے اہم روزہ ہے جو تقریباً پچیس گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے، اس دوران کھانے پینے کے ساتھ ساتھ بعض دنیوی امور سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے اور عبادت و دعاؤں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جبکہ بیمار اور کمزور افراد کو استثنا حاصل ہے۔

جین مذہب میں روزہ سخت ریاضت اور عدم تشدد کے اصول سے جڑا ہوا ہے؛ یہاں بعض افراد طویل روزے رکھتے ہیں جن میں مکمل فاقہ یا صرف اُبلا ہوا پانی پینا شامل ہوتا ہے۔ جین مت کے مطابق روزے کا مقصد کرموں کی صفائی، نفس پر قابو اور روحانی نجات حاصل کرنا ہے۔

اس طرح ہر مذہب میں روزہ اپنے مخصوص فلسفے کے تحت روحانی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یوں مختلف مذاہب میں روزے کا طریقہ کار مختلف ہونے کے باوجود اس کا مشترکہ مقصد انسان کو روحانی طور پر مضبوط کرنا اور اخلاقی بہتری کی طرف لے جانا ہے۔

اسی تاریخی اور مذہبی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اگر اسلامی دنیا میں ماہِ رمضان کا جائزہ لیا جائے تو یہ عبادت روحانیت کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور ثقافتی روایت کی شکل بھی اختیار کرچکی ہے۔ مثال کے طور پر مصر میں رمضان کے دوران گلیوں، گھروں اور مسجدوں میں فانوس روشن کیے جاتے ہیں، جنھیں بچے اپنے ہاتھ میں لے کر گاؤں و شہروں میں گھومتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں اسی طرح عمان میں قرنقاشو نامی روایت رائج ہے جس میں ماہِ رمضان کے وسطی دن بچے روایتی لباس پہن کر گلیوں میں گیت گاتے ہوئے مٹھائیاں، خشک میوے اور تحائف جمع کرتے ہیں تاکہ رمضان کے نصف روزے کی کمیونٹی خوشی اور حوصلے کے ساتھ مکمل کرے۔

اس کے علاوہ انڈونیشیا میں رمضان کے آغاز سے پہلے ایک روحانی صفائی کی روایت پڈوسان ہے، جس میں مسلم خاندان قدرتی چشموں یا ندیوں میں نہا کر جسمانی و روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ روایت خاص طور پر جاوا اور دیگر علاقوں میں رائج ہے۔ مراکش میں رمضان میں خاص طور پر سحری کے وقت گھروں اور گلیوں میں ’’نفار‘‘ نامی رسم ہوتی ہے، جہاں ایک مخصوص شخص صبح سویرے ہارن یا بگل بجاتا ہے تاکہ لوگ سحری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ رواج مقامی ثقافت کا حصہ ہے جو روحانی اور سماجی میل جول کو بڑھاتا ہے۔

عراق میں رمضان میں روزمرہ عبادات کے ساتھ ایک مخصوص کھیل محیبس بھی مقبول ہے، جس میں لوگ ٹیموں میں بن کر ایک چھپی ہوئی انگوٹھی تلاش کرتے ہیں اور روایتاً شام کے وقت گیت گاتے ہیں ۔ یہ رمضانی ماحول میں خوشیوں اور برادری کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔ اسی طرح آذربائیجان میں رمضان کے دوران گھروں، مساجد اور سڑکوں کو سجایا جاتا ہے، اور اگرچہ روزہ پوری دنیا کی طرح رکھا جاتا ہے، یہاں بَرکت کِساسی جیسی روایات بھی ہیں جس میں خواتین آخر جمعہ کو پیسے جمع کرکے اگلے رمضان تک خیرات اور بخشش کی یادگار بناتی ہیں۔ یہ روایت سخاوت اور باہمی مدد کو ظاہر کرتی ہے۔

بحرین میں رمضان کے موقع پر رات دیر تک اجتماعات، میٹھے پکوانوں کا اہتمام اور ’’اگرقان‘‘ جیسی روایات ہوتی ہیں، جہاں بچے روایتی لباس پہن کر گھروں کے دروازوں پر جاتے ہیں، پیسے، مٹھائیاں یا خشک میوے لے کر رمضان میں خوشی بانٹتے ہیں۔ یہ رسم خاندانی اور معاشرتی اتحاد کو مضبوط بناتی ہے۔

اس سلسلے میں اگر ملک پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان میں عوامی اور مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے سحر و افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت عوام کو سستا راشن فراہم کرنے کےلیے مختلف سستا بازار قائم کرتی ہے، جس سے سیکڑوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ مزید برآں، مساجد اور عوامی سطح پر خصوصی عبادات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ جبکہ محلوں میں ایک دوسرے کے گھروں میں سحر و افطار بانٹنا بھی ایک اہم روایت ہے، جس سے بھائی چارگی اور سماجی میل جول میں اضافہ ہوتا ہے۔

ماہ رمضان نہ صرف مسلمانوں کےلیے اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک قیمتی تحفہ ہے بلکہ یہ ہمیں مساوات، ہمدردی، صبر، تقویٰ، پرہیزگاری اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے۔ اس مقدس مہینے میں صرف روزہ رکھنا ہی کافی نہیں، بلکہ خصوصی عبادات کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی قوم اور معاشرت کی ترقی کے لیے بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ ہمارا معاشرہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت مہینے کی رحمت سے پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے، اور ہمیں رمضان کے حقیقی پیغام پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story