ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ ایران کو ترنوالہ سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ دنیا کی سب سے طاقتور سمجھی جانے والی امریکی فوج کو بھی ایسا کاری وار لگ سکتا ہے کہ وہ دوبارہ سنبھل نہ سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھول ہے کہ وہ ایران کو کبھی ختم کر سکیں گے۔ گزشتہ 47 برسوں میں اس مقصد میں ناکامی خود اس بات کا ثبوت ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی بحری بیڑے پر طنز کرتے ہوئے مزید کہا کہ طیارہ بردار جہاز خود خطرناک نہیں ہوتا بلکہ اصل خطرہ وہ ہتھیار ہوتا ہے جو ایسے جہاز کو سمندر کی تہہ میں پہنچا دے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر بار بار اپنی فوج کو دنیا کی مضبوط ترین فوج قرار دیتے ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زعم میں مبتلا افواج کو بھی بعض اوقات ایسا تھپڑ پڑتا ہے جو انہیں اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ آپ آئندہ بھی ایران کو ختم نہیں کرسکیں گے۔
انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حالیہ ایران مخالف فسادات عام نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ان میں ٹرمپ ذاتی طور پر ملوث رہے تاہم اس کے باوجود ایرانی قوم نے دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔
جنیوا میں جاری امریکا کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے حوالے سے خامنہ ای نے واضح کیا کہ مذاکرات کے نتائج کو پہلے سے طے کرنا غلط اور حماقت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران تعمیری نیت کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے مگر دفاعی صلاحیتوں یا دباؤ کے تحت کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں پُرامن مقاصد کے لیے ہیں اور ان کا تعلق جنگ و جدل سے نہیں بلکہ توانائی، زراعت اور صحت جیسے شعبوں سے ہے۔
ایرانی لیڈر خامنہ ای نے مزید کہا کہ جوہری صلاحیت ایرانی عوام کا حق ہے اور امریکا کو اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا پہلا دور رواں ماہ 6 فروری کو مسقط میں ہوا تھا جسے ابتدائی طور پر مثبت قرار دیا گیا تھا اور دوسرا دور جنیوا میں جاری ہے۔