رمضان المبارک میں متوازن غذا کیسے اپنائیں؟ سحری و افطار کےلیے مکمل رہنمائی
رمضان المبارک کا روح پرور مہینہ، عبادات کا مہینہ ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہمارے گھروں میں تیاریوں کا آغاز عموماً بازار سے ہوتا ہے۔ فریج انواع و اقسام کے کھانوں اور مشروبات سے بھر دیا جاتا ہے اور پہلی سحری و افطاری کا اہتمام بعض اوقات ایک چھوٹی سی دعوت کا منظر پیش کرتا ہے۔ تاہم بے احتیاطی سے کیا گیا یہی طرزِ عمل روزے کے اصل مقصد اور صحت دونوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
سحری میں غیر متوازن اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال دن بھر سستی، معدے کی تیزابیت اور بوجھل پن کا باعث بنتا ہے، جبکہ افطار میں حد سے زیادہ کھانا نظامِ ہضم کو متاثر کرتا ہے۔
اکثر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے لازماً کمزوری آتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر سحری اور افطار متوازن ہوں تو روزہ وزن میں کمی، شوگر کنٹرول کرنے اور جسمانی چربی گھٹانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
جدید طبی تحقیق بھی اس امر کی تائید کرتی ہے کہ متوازن وقفوں سے کھانا (Intermittent Fasting) میٹابولزم کو بہتر بناتا اور انسولین کی حساسیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس لیے رمضان المبارک کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کا بہترین موقع سمجھا جا سکتا ہے۔
سحری: دن بھر کی توانائی کی بنیاد
سحری دراصل پورے دن کی توانائی کا ذخیرہ ہوتی ہے، اس لیے اس میں غذائیت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق سحری میں ڈیری مصنوعات جیسے دودھ یا دہی شامل کرنے سے جسم میں کیلشیم اور پروٹین کی فراہمی ہوتی ہے اور پیاس کم محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح فائبر سے بھرپور غذائیں، مثلاً دلیہ، براؤن بریڈ، سبزیاں اور پھل، دیر سے ہضم ہوتی ہیں اور تقریباً آٹھ گھنٹے تک توانائی فراہم کرتی رہتی ہیں۔
خشک میوہ جات جیسے بادام، اخروٹ، کاجو، پستہ اور انجیر مناسب مقدار میں شامل کیے جاسکتے ہیں، کیونکہ یہ صحت مند چکنائی اور فوری توانائی مہیا کرتے ہیں۔ البتہ تلی ہوئی اشیاء سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور دن بھر بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔ اگر پراٹھا کھانا مقصود ہو تو کم گھی یا کم تیل میں تیار کیا جائے۔
پانی، دودھ یا لسی کا استعمال سحری میں ضرور ہونا چاہیے تاکہ جسم پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) سے محفوظ رہے۔ مزید یہ کہ سحری کے فوراً بعد سوجانا مناسب نہیں؛ کم از کم ایک سے دو گھنٹے جاگنے سے معدہ بہتر طور پر ہضم کا عمل مکمل کرتا ہے اور طبیعت میں بوجھل پن نہیں آتا۔
افطار: اعتدال اور حکمت کا تقاضا
افطار کے وقت طویل بھوک کے بعد اشتہا بڑھ جانا فطری ہے، مگر یہی لمحہ احتیاط کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔ روایتی طور پر کھجور سے روزہ افطار کرنا نہ صرف سنت ہے بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی مفید ہے۔ کھجور فوری گلوکوز فراہم کرتی ہے جو دماغ اور اعصاب کو توانائی دیتی ہے اور جسم میں شوگر کی کم سطح کو متوازن کرتی ہے۔ پانی یا قدرتی جوس جسم میں پانی اور معدنیات کی کمی پوری کرتے ہیں۔
افطار میں تازہ پھلوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ فروٹ چاٹ ایک اچھی روایت ہے، بشرطیکہ اس میں نمک اور چاٹ مصالحہ کم مقدار میں استعمال کیا جائے، کیونکہ خالی معدے میں زیادہ مصالحہ جلن اور تیزابیت کا باعث بن سکتا ہے۔ نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے لیے بھی مضر ہے۔
افطار کے فوراً بعد زیادہ مقدار میں مشروبات پینا، خصوصاً دودھ سوڈا یا کولڈ ڈرنکس، معدے پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ ہلکی اور متوازن غذا لی جائے، جیسے کم کولیسٹرول والے تیل میں پکی سبزیاں یا تازہ سلاد، جو فائبر، وٹامنز اور آئرن فراہم کرتے ہیں۔ چاول خصوصاً سفید چاول زیادہ کھانے سے پیاس بڑھ سکتی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ افطار سے سونے تک کم از کم چھ گلاس پانی پینا مفید رہتا ہے۔
متوازن غذا کا انتخاب کیسے کریں؟
رمضان میں خوراک کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ یہی دو اوقات پورے دن کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ گوشت اور دالوں کے گروپ میں چکن، مٹن، مچھلی، مٹر، چنے اور مختلف دالیں شامل کی جا سکتی ہیں۔ یہ پروٹین، معدنیات اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔
اناج کے گروپ میں گندم کی روٹی، چپاتی، پراٹھا یا براؤن رائس شامل کیے جا سکتے ہیں، جو کاربوہائیڈریٹس اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔
ڈیری مصنوعات جیسے دودھ، دہی اور پنیر نہ صرف کیلشیم بلکہ معیاری پروٹین بھی مہیا کرتی ہیں، جو ہڈیوں اور پٹھوں کے لیے ضروری ہے۔
پکانے کے طریقوں میں بھی تبدیلی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ تیل کے بجائے اسٹیمنگ، گرلنگ یا بیکنگ کو ترجیح دی جائے۔ کم چکنائی والے تیل مثلاً کنولا یا سویا بین آئل کا استعمال بہتر رہتا ہے۔
خصوصی ہدایت
شوگر کے مریضوں کو روزہ رکھنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے اور سحری و افطار میں میٹھی اشیاء، مشروبات اور تلی ہوئی غذاؤں کے استعمال سے متعلق ڈاکٹر کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
اگر رمضان المبارک میں غذا متوازن رکھی جائے تو نہ صرف جسمانی توانائی بحال رہتی ہے بلکہ یہ مہینہ صحت مند عادات اپنانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ یوں رمضان المبارک کی روحانی برکتوں کے ساتھ جسمانی بہتری بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔