اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے امام کو گرفتار کرلیا، حماس کی شدید مذمت
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے رمضان سے قبل مسجد اقصیٰ کے امام کو گرفتار کر لیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے پیر کی شام مسجد اقصیٰ کے صحن سے شیخ محمد العباسی کو حراست میں لیا، تاہم گرفتاری کی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب مسجد اقصیٰ میں سکیورٹی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں اور نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض مذہبی شخصیات پر پابندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
فلسطینی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسجد میں داخلے سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
ادھر اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔ فلسطینی حکام نے اسرائیل پر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نمازیوں کی رسائی محدود کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
مسجد اقصیٰ، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، مشرقی یروشلم میں واقع ہے۔ یہ علاقہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا۔ پرانے انتظامات کے تحت یہودی زائرین کو احاطے میں آنے کی اجازت ہے، تاہم وہاں عبادت کی اجازت نہیں۔