مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام ہے، علما کا بلوچستان کی صورتحال پر مشترکہ بیان

بلوچستان کے نوجوان عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور تعلیم، صبر اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں، علما کرام

ملک بھر کے دینی علما کرام نے بلوچستان میں جاری تشدد اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

علما کرام نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے، عام شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام  اور یہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔

علما نے کہا کہ دہشت گردی، مسلح بغاوت اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی سیاسی یا نسلی دعویٰ کیوں نہ ہو، اسلام کسی فرد یا گروہ کو جہاد کے اعلان یا دین کے نام پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ اس طرح کے اقدامات اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

علما کرام نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو انصاف، ترقی اور باوقار زندگی کے حوالے سے حقیقی مسائل درپیش ہیں، مگر اسلام ان مسائل کے حل کے لیے پرامن، قانونی اور اخلاقی راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ ایسا تشدد جو مزید تباہی اور عدم استحکام کو جنم دے۔

علما نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور تعلیم، صبر اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں جبکہ علما نے ریاست سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ انصاف، انسانی وقار اور مکالمے کے ذریعے عوامی مسائل کا حل یقینی بنائے۔

مشترکہ اعلامیے میں علما نے کہا کہ اسلام دہشت گردی، ظلم اور ناانصافی تینوں کو مسترد کرتا ہے، بلوچستان کا مستقبل امن، مفاہمت اور انصاف میں ہے، تشدد میں نہیں۔ 

علما کرام نے اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستہ دکھائے اور ہمارے وطن کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین


 

Load Next Story