ملک بھر کی جامعات میں اے آئی کورس لازمی قرار

ایچ ای سی کے مطابق یہ کورس 2026 میں شروع ہونے والے تعلیمی سیشن سے تمام ڈگری پروگرامز میں متعارف کرائے جائیں گے

فوٹو: فائل

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی تمام سرکاری و نجی جامعات میں میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز کی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کورس لازمی قرار دے دیا ہے، انڈر اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرام میں اے آئی کا کورس تین کریڈٹ آور کورس کا ہوگا جو اسی تعلیمی سیشن 2026 سے لاگو ہوگا۔

ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الحق کی جانب سے ملک کی تمام سرکاری و نجی جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں وائس چانسلرز اور ڈائریکٹرز سے اے آئی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 21ویں صدی کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں مصنوعی ذہانت ایک قوت کے طور پر سامنے آرہی ہے جو تعلیم، صحت، معیشت اور انتظامی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں جدت کو فروغ دے رہی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ اے آئی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، دنیا اے آئی کے ساتھ اپنے مستقبل کی جانب بڑھ رہی ہے لہٰذا پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ طلبہ کو اس ٹیکنالوجی کو ذمہ دارانہ اور اخلاقی انداز میں استعمال کرنے کی مہارتیں فراہم کرے۔

ایچ ای سی کی جانب سے کہا گیا کہ اسی تناظر میں ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی شعبے کی جامعات اور اسناد تفویض کرنے والے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہر انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرام میں مصنوعی ذہانت کا لازمی تین کریڈٹ آور کورس شامل کریں۔

کورس کے حوالے سے ہدایت کی گئی ہے کہ یہ کورس بطور اختیاری مضمون، بطور بین الشعبہ جاتی کورس اور پروگرام کے ڈھانچے میں شامل کسی متعلقہ مضمون کے طور پر شامل ہوسکتا ہے تاہم کورس میں اے آئی کے بنیادی تصورات شامل ہونے چاہئیں۔

ایچ ای سی کے مطابق یہ کورروان سال 2026 میں شروع ہونے والے تعلیمی سیشن سے تمام ڈگری پروگرامز میں متعارف کرائے جائیں گے۔

Load Next Story