کوئٹہ اور بارکھان میں سی ٹی ڈی نے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 14 فتنتہ الخوارج کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید جب کہ تین زخمی ہوگئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ خبر رساں ادارے فرانس 24 کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’’ پراکسی جنگ‘‘ کا نتیجہ ہیں۔
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر خیبر کی تنگ گھاٹیوں تک پھیلا ہوا یہ خطہ ایک بار پھر بارود کی بو سے آشنا ہو رہا ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی قوتیں اب محض اندرونی بے چینی کا مظہر نہیں رہیں بلکہ ایک منظم، کثیرالجہتی اور سرحد پار سے تقویت پانے والی پراکسی جنگ کا چہرہ اختیار کر چکی ہیں۔ کوئٹہ اور بارکھان میں حالیہ کارروائیوں نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت اپنی شکست کے باوجود مکمل طور پر نابود نہیں ہوا، بلکہ نئے چہروں، نئی حکمت عملیوں اور نئے سرپرستوں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے عناصر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، جن میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے نام شامل ہیں۔ یہ محض اصطلاحات نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور عسکری رجحان کی علامت ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے، شہریوں میں خوف پھیلانے اور عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جب کسی صوبے کے دارالحکومت کے قریب اس نوعیت کے نیٹ ورکس سرگرم ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ دشمن محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری مراکز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کی حکمت عملی اب دیہی یا قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہی، یہ شہروں کی نفسیات، مارکیٹوں کی رونق اور تعلیمی اداروں کے سکون کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے سرحدی نظم و نسق کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا اگر اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ۔ ان کا یہ بیان محض سفارتی سختی نہیں بلکہ ایک اضطراب کی عکاسی ہے، وہ اضطراب جو ریاست کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کی سلامتی کے خلاف منصوبہ بندی سرحد پار بیٹھ کر کی جا رہی ہے۔
پراکسی جنگ کا مفہوم محض اسلحہ فراہم کرنے یا تربیت دینے تک محدود نہیں۔ یہ ایک مکمل بیانیہ کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا، مذہبی جذبات، لسانی محرومیاں اور معاشی ناہمواریاں۔ سب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ اس کا ہدف ریاست کی معیشت، سرمایہ کاری کا ماحول اور عالمی ساکھ بھی ہوتی ہے۔ جب کسی ملک میں بار بار دھماکوں اور حملوں کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔ سیاحت، صنعت اور تجارت سب متاثر ہوتے ہیں۔ یوں دشمن بغیر روایتی جنگ کے بھی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال صوبے میں اگر امن قائم نہ رہے تو معدنی ذخائر، بندرگاہی امکانات اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے سب غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان نے داخلی سطح پر وہ تمام اصلاحات کر لی ہیں جو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہیں؟ نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ایک اہم سنگ میل تھا، مگر اس پر عملدرآمد کی رفتار اور تسلسل ہمیشہ بحث کا موضوع رہا۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، مدرسہ اصلاحات، اور عدالتی نظام کی بہتری، یہ سب وہ پہلو ہیں جن پر مستقل توجہ درکار ہے، اگر داخلی کمزوریاں برقرار رہیں گی تو بیرونی مداخلت کے لیے راستے کھلے رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسی کا تسلسل اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہے۔
خطے کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف معاشی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں کے خواب ہیں۔ دوسری طرف بداعتمادی، سرحدی کشیدگی اور پراکسی جنگوں کا سایہ۔ اگر دہشت گردی کا عفریت دوبارہ مضبوط ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ افغانستان پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، ایران کے ساتھ سرحدی معاملات حساس ہیں۔ کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
عالمی طاقتیں بھی اس منظرنامے سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں۔ اگر واقعی افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو یہ صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کا معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مؤثر سفارتی دباؤ اور نگرانی کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے عالمی تعاون اور معلومات کا تبادلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن کا ہے۔ سختی اور حکمت، طاقت اور مفاہمت، خود مختاری اور علاقائی تعاون کے درمیان توازن۔ اگر فضائی کارروائیاں ناگزیر ہو جائیں تو ان کے سفارتی اور قانونی مضمرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا تاکہ وقتی فائدہ طویل المدتی نقصان میں تبدیل نہ ہو۔ سرحد پار کارروائی کی قیمت صرف عسکری نہیں، سیاسی اور سفارتی بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں، خاندان اجڑے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک جامع، غیر مبہم اور مستقل مزاج پالیسی اختیار کرے۔ وقتی سیاسی مفادات یا داخلی کشمکش اس قومی ایجنڈے پر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمان کو اس موضوع پر متفقہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو داخلی تقسیم کا فائدہ نہ مل سکے۔
بلوچستان کی خصوصی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں میں حقیقی شراکت داری دینا، مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا، اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانا دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اگر عوام خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں گے تو بیرونی ایجنڈے کے لیے جگہ تنگ ہو جائے گی۔ احساسِ شمولیت دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
خطے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں کبھی یک طرفہ نہیں رہتیں۔ آج اگر کوئی ملک دوسرے کے خلاف پراکسی استعمال کرتا ہے تو کل وہی ہتھیار اس کے اپنے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کو اس خطرناک کھیل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کو اسلحے کی دوڑ نہیں، معاشی تعاون اور انسانی ترقی کی دوڑ درکار ہے۔
اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور گھروں تک پھیل جائیں گے۔ خوف کا ایسا ماحول جنم لے گا جس میں تخلیقی سوچ، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی دم توڑ دے گی۔ سرمایہ کاری رک جائے گی، ہنر مند افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے سیکیورٹی پر صرف ہوتا رہے گا۔اس کے برعکس اگر ریاست دانشمندی، مستقل مزاجی اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک موقع بھی بن سکتا ہے۔ داخلی اصلاحات، علاقائی سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پالیسی میں ابہام نہ ہو، ترجیحات واضح ہوں اور عملدرآمد میں تاخیر نہ کی جائے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان داخلی استحکام کو اولین ترجیح دے، سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرے، اور خطے میں امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کو آگے بڑھائے۔ پراکسی جنگوں کا انجام کبھی فریقین کے حق میں نہیں ہوتا، وہ پورے خطے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اگر آج دانشمندی، جرات اور بصیرت سے کام نہ لیا گیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق کا نہیں، بیانیے، معیشت، انصاف اور قومی یکجہتی کا بھی ہے اور اسی ہمہ جہتی حکمت عملی میں پاکستان اور پورے خطے کا محفوظ اور مستحکم مستقبل مضمر ہے۔