ایران پر حملہ؟ دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ بہت قریب پہنچ گیا
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات بھی جاری ہیں
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔
ایسے وقت میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے۔
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیازی سے بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کرنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی دفاعی حکام کے بقول توقع ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے جس کے بعد یہ ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار حالت میں موجود ہوگا۔
USS GERALD R FORD CVN78 and support heading west through the STROG this afternoon⚓️ #shipsinpics #ships #shipping #shipspotting #naval @YorukIsik @air_intel @WarshipCam @seawaves_mag #navy pic.twitter.com/KzpCXKgm0G
حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس تعیناتی کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی جاری کی گئی تصاویر میں بحیرۂ روم میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے عرشے سے ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ طیارے کی پرواز بھی دکھائی گئی ہے جو امریکی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بورڈ آف پیس سے خطاب میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران پر ایک بڑی فوجی کارروائی کریں گے تاکہ جوہری مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر حملے کے لیے جنگی طیارے اور بارود سے لیس بحری بیڑہ روانہ ہوچکا ہے۔ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے لیے بڑی تباہی ہوگی۔