حکومتی پیشکش کے باوجود دباؤ میں آکرعمران خان سے ملاقات نہ کرنا غلطی ہے، رہنما پی ٹی آئی
فوٹو: فائل
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ہماری قیادت کو یہ پیش کش ضرور تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جا کر مل لیں لیکن جو کسی پریشر میں آ کر بانی سے نہیں ملا اس نے غلطی کی ہے لیکن اگر میں ہوتا تو ضرور ان سے ملاقات کرتا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں علیمہ خان کے جذبات کا احساس کرنا چاہیے، وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں، ان کی سخت بات بھی ہمیں برداشت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ہمیں اسپیس دینی چاہیے، ہمیں احتیاط سے چلنا ہے کہ بہنوں کی دل آزاری بھی نہ ہو اور بانی کی رہائی بھی ہو، چیف جسٹس نے عمران خان کے حوالے سے 3 چیزوں پر کلیئر ہدایات دیں، چیف جسٹس نے بانی کی صحت، بچوں سے ملاقات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایات دیں، سپریم کورٹ نے واضح ڈائریکشن دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم از کم بانی پی ٹی آئی سے ذاتی معالج کی ملاقات تو کروا دے، ذاتی معالج تو سیاسی بات نہیں کرتے، فیصل سلطان سے عمران خان کا ایک طویل ساتھ ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہماری قیادت کو یہ پیش کش ضرور تھی کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جا کر مل لیں، جو کسی پریشر میں آ کر بانی سے نہیں ملا اس نے غلطی کی ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو میں ضرور بانی پی ٹی آئی سے ملنے جاتا، میں ان سے پوچھتا کہ آپ کی صحت کیسی ہے، میں ہوتا تو ان کی صحت کی تصدیق بانی سے جیل میں مل کر کرتا۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے فورس بنانے کا اعلان کیا تو میں پارلیمنٹ میں تھا، عمران کی رہائی کے معاملے پر سہیل آفریدی کی سوچ اچھی ہے، وزیر اعلیٰ نے یہ کہا کہ ہم پر امن کوششیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے تجویز دی کہ فورس کی جگہ لفظ رضا کار کر لیں، تجویز دی کہ بانی رہائی فورس کی جگہ بانی رہائی رضا کار کا نام دے دیں، اس سے مخالفین کو کسی تنقید کا موقع ہی نہیں ملے گا۔