پارٹی کے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو عمران خان جیل سے باہر ہوتے،علی امین گنڈاپور
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے باہر ہوتے،قانون و انصاف نہیں ہے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اس چیز کا گناہ گار ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سپورٹ اور شہرت کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں بار بار، یا تو ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا پھر آپس کے اختلاف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کاموں میں لگے ہوئے ہیں جو مقصد سے ہٹ کر ہیں، ہم بے وقوفی پر لگے ہوئے نادانی میں لگے ہوئے ہیں استعمال ہورہے ہیں جو بھی وجہ ہے، نتائج جو بھی وجہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے وہ دیکھنا چاہیے۔
علی امین نے کہا کہ ہمارا ہر کسی کے لیے احترام ہے، جب میرے لیڈر پرسخت وقت ہوگا اسے تکلیف ہوگی، اس کے لئے میں اگر غصہ میں بات کرتا ہوں تو لوگوں کو برداشت کرنا چاہیے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے کتنی پریشر سے کمپین شروع کی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم آج ادھر کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہیے، میں جو بھی کر رہا ہوں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے کر رہا ہوں، ہماری غلطیاں تو ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان معالج کی رسائی مانگ رہا ہے وہ ہم نہیں کر پا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پریشر باتوں سے نہیں رویہ سے بنتا ہے، آپ کی طاقت سے بنتا ہے آپ کیا کر سکتے ہیں، ڈائیلاگ ٹک ٹاک بنانے سے فرق پڑتا تو آج یہ حال نہ ہوتا، خان صاحب کی رہائی دور کی بات آج معالج بھی نہیں مل رہا، میں پہلے بھی خاموش نہیں تھا میں وزیر اعلیٰ تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس وقت ایک ورکر ہوں نہ سیاسی کمیٹی کا حصہ ہوں نہ ہی کوئی عہدہ ہے، میں اپنے حلقہ میں تھا پاکستان کی سب سے بڑی ریلیاں کر رہا تھا، چیلنج کرتا ہوں میری ریلی سب سے بڑی نہ ہوئی تو کہیں میں خاموش تھا۔
انہوں نے کہا کہ کال دی گئی میں سب سے پہلے آیا، کیمرے لگے ہوئے تھے، سب سے زیادہ ایکٹویٹی بھی میں نے کی تھی، یہاں آیا ہوں پانچ دنوں میں بارہ گھنٹے نہیں سویا، پھر حکم ہوا کہ چلے جاؤ میں کیا کرتا، کوئی وجہ ہے تو ہمارا پریشر کم ہوا اور بانی کو مشکلات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پریشر بناؤ یہ کہنا گناہ ہے تو میں کرونگا، میں جگاونگا ان لوگوں کو مسئلے حل نہیں ہورہے ہیں، کوشش تو کرو یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹی وی پروگرام میں بیٹھ جاؤ، آپ کے عمل سے سارا کچھ ہوتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی۔ علی امین گنڈاپور ضلعی کچہری میں پیش ہوئے اور سرنڈر کیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شریک ملزم اسد فاروق خان بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔
عدالت نے آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور اور اسد فاروق خان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی بھی ختم کر دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ تو عدالت پیش ہی نہیں ہوتے رہے، جس پر علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی صورتحال، کرفیو اور راستوں کی بندش کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کال پر صرف لائسنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور چھاپوں کے دوران ان کے موبائل بھی لے لیے گئے۔
جج نصر من اللہ بلوچ نے ریمارکس دیے کہ صرف پراسیکوشن کے کہنے پر سزا نہیں ہو سکتی اور کیس طویل عرصے سے زیرِ سماعت ہے۔
وکیلِ صفائی نے وارنٹ منسوخ کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے آئندہ احتیاط اور حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔