رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو طلب کرلیا
فوٹو فائل
پشاور ہائیکورٹ نے ماہ رمضان المبارک کے دوران ذخیرہ اندوزی اورمنافع خوری کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔
پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں متعلقہ حکام کو رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور خودساختہ مہنگائی روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے احکامات دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بنچ نے محمدحمدان ایڈوکیٹ نے درخواست پر پرسماعت کی جس میں چیف سیکرٹری، محکمہ فوڈ حکام اور کمشنر پشاور کو بھی فریق بنایا گیاہے۔
رٹ کے مطابق رمضان میں خودساختہ مہنگائی کیلئے ذخیرہ اندوز اور منافع خور سرگرم ہوجاتے ہیں اوریہ ایک معمول بن چکا ہے تاہم ان پر کوئی چیک نہیں ہوتا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آٹا، پھل ودیگر اشیائےخوردونوش کی قیمتیں ذخیرہ اندوزی کیوجہ سے بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی کیوجہ سے غریب وکم آمدن والے لوگ زیادہ متاثرہوتے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا کہ آٹا بحران وذخیرہ اندوزی سے دیگر مسائل بھی جنم لیتے ہیں لہذا منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کیلئے اقدامات کرنے اور اس ضمن میں صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ ، فوڈ حکام ودیگر متعلقہ اداروں کو احکامات دیئے جائیں تاکہ وہ اس کی روک تھام یقینی بنائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی ہے کہ رمضان کے مہینے میں غریب ومتوسط طبقوں کو ایمرجنسی بنیادوں پر سپورٹ فراہم کرنے کیلئے بھی حکومت و متعلقہ اداروں کو احکامات دیئے جائیں۔
عدالت نے ابتدائی دلائل کےبعد فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔