پاکستان ہاکی فیڈریشن کا حکمتِ عملی کے تحت 'ایڈہاک گورننس، مینجمنٹ کمیٹی' کی تشکیل کا اعلان

اقدام ڈھانچہ جاتی تبدیلی کی علامت ہے جس کا مقصد نظم و نسق کو جدید بنانا اور ملک بھر میں ہاکی کے معیار کو بلند کرنا ہے

پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے حکمتِ عملی کے تحت ایک 'ایڈہاک گورننس اور مینجمنٹ کمیٹی' کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایک ڈھانچہ جاتی تبدیلی کی علامت ہے جس کا مقصد نظم و نسق کو جدید بنانا اور ملک بھر میں ہاکی کے معیار کو بلند کرنا ہے۔

تکنیکی مہارت کے حصول کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر، لیجنڈری اولمپینز حسن سردار اور اصلاح الدین 'پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی' کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ ان کے مینڈیٹ میں قومی ٹیم کا انتخاب، خصوصی تربیتی پروٹوکولز کی نگرانی، اور کوچز و کھلاڑیوں کے لیے سخت معیارات کا تعین شامل ہے۔ طویل مدتی انتظامی انتخاب 'پروفیشنل ایڈوائزری کمیٹی' کے ذریعے کیا جائے گا جس کے مشترکہ سربراہ سابق اولمپینز اصلاح الدین اور حسن سردار ہوں گے۔ اس کمیٹی کے دیگر ارکان کا تقرر ان دونوں لیجنڈز کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

خصوصی نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے، پی ایچ ایف نے کارپوریٹ گورننس، مارکیٹنگ اور وسائل کی فراہمی کو ہاکی کے تکنیکی امور سے الگ کر دیا ہے۔

گورننس کمیٹی کے نئے مقرر کردہ ارکان  میں کیپٹن فرخ عتیق: ہیومن ریسورس (HR) اور فنانس، شکیل شاہ (ممبر کسٹمز): محکمانہ ہم آہنگی اور آؤٹ ریچ، عامر ابراہیم (سی ای او جاز): کارپوریٹ اور مارکیٹنگ سپورٹ، غلام علی ملاح (ای ڈی آئی بی سی سی): سکول اور کالج کی سطح پر کھیلوں کا فروغ، بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اکمل عزیز: سروسز اور ادارہ جاتی ہم آہنگی شامل ہیں۔

گورننس کمیٹی کے تمام ارکان اعزازی بنیادوں پر کام کریں گے اور پاکستان ہاکی کی بحالی اور اسے بلندیوں تک پہنچانے کے لیے اپنی مہارت وقف کریں گے۔

پی ایچ ایف کے ترجمان کے مطابق یہ سمت درست کرنے کے لیے ایک عبوری روڈ میپ ہے۔ کامیابی کا کوئی مختصر راستہ نہیں ہے، لیکن واضح سمت اور کوششوں کی سنجیدگی جلد نظر آئے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ: "ہم ہاکی کو نچلی سطح (گراس روٹ) پر جوڑنے کے لیے تمام اداروں کو متحرک کریں گے۔"

یہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات شفافیت اور پیشہ ورانہ میرٹ کے لیے پی ایچ ایف کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں، تاکہ "قومی کھیل" کو وہ کارپوریٹ اور تکنیکی مہارت حاصل ہو سکے جو عالمی سطح پر واپسی کے لیے ضروری ہے۔

پی ایچ ایف پرامید ہے کہ ان تبدیلیوں سے کھیل میں مثبت تبدیلی آئے گی اور پاکستان ہاکی کا کھویا ہوا وقار بحال ہوگا.

Load Next Story