ملازمین کی عدم مستقلی سیاسی وکٹامائزیشن ہے، نئی بھرتی کا مطلب حکومت اپنے بندے رکھےگی،جسٹس محسن کیانی
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے فیز تھری کے سینکڑوں ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملازمین کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ مستقل تقرریاں کیوں نہیں کی جا رہیں، یہ ایک سیاسی ویکٹمائزیشن ہے، یہ بھی شہری ہیں وہ بھی شہری ہیں، حکومت کن کو رکھ رہی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال اٹھایا کہ حکومت بار بار کنٹریکٹ پر بھرتی کیوں کر رہی ہے، 402 پوسٹوں پر نئی بھرتی کا مطلب ہے کہ اب جو رجیم ہے وہ اپنے بندے رکھے گی۔
عدالت نے کہا کہ ایک بندے کو نوکری پر رکھ کر پانچ دس سال بعد تیس دن کے نوٹس پر فارغ کر دیا جاتا ہے، اگر بھرتی کر کے کنٹریکٹ پر رکھ کر کام بھی لیا جا رہا ہے اور تجربہ بھی ہو رہا ہے تو مستقل کیوں نہیں کیا جا رہا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ قانون نہیں بنایا جا رہا، ہر کیس میں عدالتی حکم کے بعد آٹھ دس ماہ میں رولز بنتے ہیں، پورے سسٹم میں عدالت پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، عام شہری پس رہے ہیں، ان کا کیا قصور ہے۔
درخواست گزار اپنے وکیل افنان کریم کنڈی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن بھی عدالت میں موجود تھے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے کو میٹنگ اور رولز بنانے کی ہدایت دی گئی تھی، ٹیسٹ اور انٹرویو سمیت ریکروٹنگ کے تمام تقاضے پورے کر کے 2018 میں بھرتی کیا گیا، بعد ازاں کنٹریکٹ میں توسیع ہوتی رہی، 31 اگست 2023 کو آخری بار توسیع دی گئی، جنوری 2023 میں حکومت سے 402 پوسٹوں پر مستقل بھرتی کی اجازت مانگی گئی، آخری لیٹر میں مستقلی کا کہا گیا لیکن عمل نہیں ہوا۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ملازمین آج بھی کام کر رہے ہیں اور تنخواہ بھی مل رہی ہے، رولز نہیں ہیں اس لیے مستقل نہیں کیا جا سکتا، این سی سی آئی اے ڈرافٹ پر کام کر رہی ہے، وقت دیا جائے اور آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کرا دیا جائے گا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج کے دور میں کسی کو بیروزگار کرنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں، رولز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ملازمین اسی طرح کام کر رہے ہیں اور ڈی پی سی میں بھی شامل نہیں ہو سکتے۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، سماعت کے اختتام پر جسٹس محسن اختر نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ یہ ملازمین آج یہاں کیوں ہیں یہ آفس کیوں نہیں گئے۔
وکیل افنان کریم کنڈی نے کہا کہ یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ انکو فارغ کردیا جائے گا جیسے دیگر کا کنٹریکٹ نہیں بڑھایا گیا ، یہ خود آکر عدالت میں سماعت سننا چاہتے تھے کہ عدالت میں کیا ہو رہا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یعنی انکی بدعائیں بھی میرے کھاتے میں ہونگیں، عدالتی ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔