’’پنچ‘‘ کی تنہائی بالآخر دور ہوگئی، وائرل ویڈیو نے پوری دنیا کو متاثر کردیا

پنچ آہستہ آہستہ اپنے گروہ میں جگہ بناتا اور ساتھی بندروں کے ساتھ گھلتا ملتا دکھائی دے رہا ہے

سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں کبھی کبھار کوئی ایسا منظر سامنے آتا ہے جو صرف وائرل نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کے جذبات کی عکاسی بھی بن جاتا ہے۔

حالیہ دنوں ایک ننھے جاپانی مکاک بندر ’’پنچ‘‘ کی ویڈیوز نے کچھ ایسا ہی اثر ڈالا۔ اپنے سینے سے ایک نرم اورنگوٹان کھلونا لگائے، تنہا اور کسی اپنائیت کی تلاش میں دکھائی دینے والے اس چھوٹے سے جانور کی تصاویر اور ویڈیوز نے کروڑوں افراد کو متاثر کیا۔ تاہم اب سامنے آنے والی نئی ویڈیوز میں وہی پنچ آہستہ آہستہ اپنے گروہ میں جگہ بناتا اور ساتھی بندروں کے ساتھ گھلتا ملتا دکھائی دے رہا ہے، جیسے اس کی کہانی تنہائی سے قبولیت کی طرف بڑھ رہی ہو۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنچ جولائی میں جاپان کے شہر اچیکاوا کے ایک چڑیا گھر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران ایک پیچیدہ پیدائش کے بعد پیدا ہوا۔ پیدائش کے بعد اس کی ماں نے اسے قبول نہیں کیا، جبکہ بندروں کی زندگی میں ماں صرف خوراک ہی نہیں بلکہ سماجی تربیت کا بنیادی ذریعہ بھی ہوتی ہے۔

ابتدائی مہینوں میں اس کا زیادہ تر رابطہ انسانوں سے رہا اور بعد ازاں جنوری میں اسے احتیاط کے ساتھ ’’مونکی ماؤنٹین‘‘ کے احاطے میں دوسرے بندروں کے ساتھ شامل کیا گیا۔ چونکہ جاپانی مکاک ایک سخت سماجی نظام رکھتے ہیں اور بچے اپنی ماؤں سے سماجی رویے سیکھتے ہیں، اس لیے پنچ کو ابتدا میں دیگر بندروں کی جانب سے نظرانداز اور بعض اوقات جھڑک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس تنہائی کو کم کرنے کے لیے چڑیا گھر کے عملے نے اسے سویڈش کمپنی IKEA کا ایک اورنگوٹان نما نرم کھلونا دیا۔ پنچ نے اس کھلونے کو فوراً اپنا لیا اور اسے ’’اورا-ماما‘‘ کا نام دیا۔ وہ اسے ہر وقت ساتھ رکھتا، گلے لگاتا اور بعض اوقات اس طرح لپٹ جاتا جیسے کسی جواب یا تسلی کی امید ہو۔ یہی مناظر سوشل میڈیا پر لوگوں کے دلوں کو چھو گئے۔

ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر پنچ کی ویڈیوز کروڑوں بار دیکھی گئیں جبکہ کچھ کلپس نے 30 ملین سے زائد ویوز حاصل کیے۔ مداحوں نے اس پر فین آرٹ بھی بنایا اور اس کی کہانی مختلف پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث رہی۔ امریکی ٹی وی شو کے میزبان اسٹیفن کولبرٹ نے بھی اپنے پروگرام میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اسے موجودہ دور میں جذباتی تسلی کی ایک علامت قرار دیا۔

چڑیا گھر انتظامیہ نے وضاحت کی کہ بندروں میں سماجی تربیت ایک قدرتی عمل ہے اور اگرچہ پنچ کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ ذہنی طور پر مضبوط ہے اور تیزی سے حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔ حالیہ ویڈیوز میں اسے ہم عمر بندروں کے ساتھ کھیلتے اور ایک ساتھی سے پیار بھرے انداز میں صفائی کرواتے دیکھا گیا، جسے سماجی قبولیت کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

پنچ کی مقبولیت کا اثر مارکیٹ پر بھی پڑا۔ آسٹریلیا میں ایک ہفتے کے اندر اس کھلونے کی فروخت میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا میں کئی اسٹورز میں یہ عارضی طور پر نایاب ہوگیا۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر اس کی قیمت اصل سے کئی گنا زیادہ میں فروخت ہوتی دیکھی گئی۔ کمپنی نے بھی اس رجحان کو مثبت انداز میں اپناتے ہوئے متعلقہ چڑیا گھر کو درجنوں نرم کھلونے عطیہ کیے۔

پنچ کی کہانی صرف ایک ننھے بندر یا ایک نرم کھلونے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ تنہائی، استقامت اور سماجی قبولیت کی علامت بن گئی ہے۔ بار بار مسترد ہونے کے باوجود اس کی مسلسل کوشش اور ہمت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ کبھی کبھی سب سے مضبوط احساسات کا اظہار سب سے نرم چیزوں کے ذریعے ہوتا ہے۔

Load Next Story