لاپتا شہری کیس: سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب
فوٹو: فائل
جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ میں کیوں نہ وزیر اعظم کو طلب کروں کہ انہوں نے فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی نہیں کی، ہم توقع کرتے ہیں کہ قانون پر عمل کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری زینب زعیم کے لاپتہ خاوند کے کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کی درخواست پر سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے زینب زعیم کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کے حوالےسے ان کیمرہ بریفنگ دینی ہے یا نہیں؟ فیلڈ آفیسر ملٹری انٹیلیجنس کا یا آئی ایس آئی کا ہوگا جو بریفنگ دے سکتا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ ان کا نمائندہ آکر آپ کو بریفنگ دے سکتا ہے۔ فیلڈ آفیسر آتے نہیں ہیں نا ہی ہمیں ان کے حوالے سے معلوم ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ شہری2013 میں پہلی دفعہ لاپتہ ہوا تھا ابھی 2026 ہے ، ایک آدمی کی ان کیمرہ بریفنگ سمجھنا چاہ رہا ہوں، یہ عدالت قانون کے مطابق چلنا چاہ رہی ہے، اس عدالت نے بھی اور ڈویژن بنچ نے بھی کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایک معذور شخص کے بارے میں اسٹیٹ بتانے کو تیار نہیں، اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں ، حکومت پچاس لاکھ روپے اس کی فیملی کو دے چکی ہے۔
اگر یہ شخص دہشت گرد ہے تو پھر اس کے خلاف ٹرائل کریں ، لاپتہ افراد کا لارجر بنچ ٹوٹ گیا تو اس کے بعد وہ دوبارہ سے بنا ہی نہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالت کچھ وقت دے دے ہم آئندہ سماعت پر کیس میں معاونت کریں گے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ قابل احترام لوگ ہیں ملک کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
نمائندہ وزارت دفاع نے کہا کہ ہم نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ یہ شخص کسی ایجنسی کے پاس ہے ، یہ معاوضہ نہیں ہے بلکہ معاونت ہے جو وزیر اعظم نے پانچ سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہونے کا گزرنے کے بعد منظوری دی تھی۔
نمائندہ وزارت دفاع نے کہا کہ ان کیمرہ بریفنگ اس عدالت کے سامنے کیس کے اسکوپ سے باہر ہے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ میں کیوں نا وزیر اعظم کو طلب کروں کہ انہوں نے فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی نہیں کی، ہم توقع کرتے ہیں کہ قانون پر عمل کریں گے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت سے اس فیصلے کو معطل کرا لیں ، اس کا مطلب ہے وفاقی آئینی عدالت نے آپ کی بات نہیں مانی، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی۔