سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، معطل سرکاری ملازم پوری تنخواہ اور مراعات کا حقدار قرار

سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا

سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے معطل سرکاری ملازم پوری تنخواہ اور مراعات کا حقدار قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ معطلی ملازمت سے برطرفی، خاتمہ یا علیحدگی نہیں، معطلی کے دوران سول سروس کا ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے چاہے ڈیوٹی نہ کر رہا ہو۔

ملازمت کا معاہدہ برقرار رہنے تک تنخواہ سمیت تمام حقوق بھی برقرار رہتے ہیں۔ فیصلے میں سورت المائدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کے منافی ہے۔ معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے۔

فیصلے سے قبل مالی محرومی سزا کے مترادف ہے۔ حدیث نبوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دو۔ معطلی کی مدت کے دوران ملازم سے کسی بھی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے۔

فریق ارشد حسین ایف بی آر میں ملازم تھے، میڈیکل بورڈ نے بیماری کے باعث سروس کے لیے ان فٹ قرار دیا تھا، محکمے نے جبری ریٹائر کر کے معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم واپس مانگی تھی، ٹربیونل نے معطلی کے دورانیے کی مکمل تنخواہ اور الاؤنسز کا حقدار قرار دیا تھا۔

Load Next Story