مودی کا دورۂ اسرائیل؛ مسجد نذر آتش؛ فلسطینی آبادی پر حملے؛ دل دہلا دینے والی ویڈیو
مغربی کنارے میں فلسطینی آبادکاروں کے گھر اور مسجد نذر آتش
مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکیورٹی فورسز کی آشیربا سے ایک بار پھر شدت پسند مسلح یہودی آبادکاروں نے فلسطینی آبادی پر دھاوا بول دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے نابلس میں یہودی آبادروں نے مسجد ابو بکر صدیق پر حملہ کرکے اسے نذر آتش کردیا۔
فلسطینی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مسجد کے داخلی دروازے کو جھلسا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جب کہ مسجد کی دیوار پر عبرانی زبان میں “انتقام” اور “پرائس ٹیگ” جیسے اشتعال انگیز نعرے تحریر تھے۔
خیال رہے کہ یہ نفرت آمیز نعرے عموماً شدت پسند یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو اپنے بقول جوابی کارروائی قرار دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
عاجل| مليشيات المستوطنين يحرقون مسجد "أبو بكر الصديق" في قرية تل جنوب غرب نابلس ويخطون شعارات معادية فجر اليوم. pic.twitter.com/AARbLwJ6Ix
فلسطینی خبر رساں ادارے معان کے مطابق آگ مسجد کے دروازے پر لگائی گئی جس سے بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا تاہم مقامی افراد نے بروقت آگ پر قابو پا لیا۔
دوسری جانب ایک گروہ گروہ نے فلسطینی آبادی پر حملہ کرکے متعد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ جلتے ہوئے گھروں میں بچے بھی موجود تھے۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق اس گاؤں میں کم از کم چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں ایک رہائشی خیمہ اور ایک گھر کا داخلی راستہ شامل تھا جہاں اس وقت خاندان موجود تھا۔
فلسطینی ہلالِ احمر نے بتایا کہ دھویں سے متاثر ہونے والے چار افراد کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔
سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک درجن سے زائد نقاب پوش افراد کو گاڑیوں کو آگ لگاتے اور لاٹھیاں اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی کو چیختے ہوئے سنا گیا کہ “بچوں کو بچاؤ، گھر کے اندر بچے ہیں!
CCTV footage shows a large group of Israeli settlers setting Palestinian homes and vehicles on fire in an attempt to burn families alive in the village of Susya in the West Bank, then trying to destroy the security camera to erase the evidence. pic.twitter.com/156MTNhExz
مسجد اور گھروں پر حملے اور انھیں نذر آتش کرنے کے دہشت گردی پر منبی ان واقعات نے خطے میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج اور پولیس نے کہا کہ مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف نے حملے کو نسل پرستانہ اسرائیلی اشتعال انگیزی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
فلسطین اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف کے مطابق گزشتہ برس مغربی کنارے میں 45 مساجد پر حملے ہوئے۔
یاد رہے کہ تشدد پر مبنی یہ واقعات ایسے وقت میں کیے گئے جب فلسطینی ماہ مقدس رمضان میں روزے سے ہیں اور ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ فائرنگ، آتش زنی اور دیگر 128 پرتشدد جرائم رپورٹ ہوئے ہیں۔
Load Next Story