حکومت کو مزید بیرونی قرضے نہ لینے کا مشورہ

مالی نظم و ضبط، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام پر قرضوں کے بوجھ میں کمی ممکن ہو سکے، سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور ڈویژن نے سفارش کی ہے کہ نئے بیرونی قرضے لینے سے گریز کیا جائے اور مالی نظم و ضبط، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی مفاد کا تحفظ اور عوام پر قرضوں کے بوجھ میں کمی ممکن ہو سکے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بیرونی فنڈنگ کے انتظامات، ورلڈ بینک کے قرضوں اور ان کے استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے متعلقہ محکموں کی جانب سے مکمل معلومات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں جامع ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کی جانب سے حاصل کیے گئے 20 کروڑ ڈالر کے قرض کا معاملہ زیر بحث آیا۔ پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی نے 2012 میں نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے لیے قرض حاصل کیا تھا تاہم اسے استعمال نہیں کیا گیا اور بالآخر 2014 میں منسوخ کر دیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کمپنی خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ قرض حاصل کرنے کے بعد اسے استعمال نہ کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے بھی معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے استفسار کیا کہ آیا منصوبے کی مکمل تفصیلات قرض دہندہ ادارے کو فراہم کی گئی تھیں اور مقامی سطح کے منصوبہ جاتی حصوں پر کام نہ کرنے کی وجوہات کیا تھیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس غفلت پر کمپنی پر ہرجانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایس ایس جی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر اور اعلیٰ انتظامیہ کو مکمل دستاویزات کے ساتھ طلب کیا جائے، جن میں منصوبے کی تازہ پیش رفت، تعیناتیوں کی تفصیل اور منصوبے سے وابستہ افسران کی فہرست شامل ہو۔

سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن نے قرض کی منسوخی کو باعثِ شرمندگی قرار دیا۔

تعلیم کے شعبے کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں بتایا گیا کہ کووڈ-19 کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے حاصل کیے گئے 23 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قرض کا بھی جائزہ لیا گیا جو ASPIRE پروگرام (ایکشنز ٹو اسٹرنتھن پرفارمنس فار اِنکلیوسیو ریسپانسیو ایجوکیشن) کے تحت حاصل کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق یہ قرض وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے حاصل کیا اور وبا کے دوران آن لائن تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف اضلاع کو معاونت فراہم کی گئی۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اجلاس میں سیکریٹری تعلیم کی عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ایڈیشنل یا جوائنٹ سیکریٹری سطح کا افسر لازمی شریک ہو۔

انہوں نے وزارت کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے ای اے ڈی کو ہدایت کی کہ وزارتِ تعلیم کو غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل پر خط لکھا جائے اور متنبہ کیا کہ ایسے رویے سے مستقبل میں بیرونی قرضوں کے حصول پر اثر پڑ سکتا ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے کے تحت سندھ میں 200 اضافی کلاس رومز تعمیر کیے گئے، 120 اسکولوں کو ڈیجیٹل کلاس روم سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ 106 اسکولوں کو سولرائز کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے صوبہ خیبر پختونخوا کی عدم نمائندگی کا بھی نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری کو اظہارِ برہمی کا خط لکھنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور پراجیکٹ ڈائریکٹرز شرکت یقینی بنائیں اور اب تک کے اخراجات، تعمیر شدہ کلاس رومز کی تصاویر اور فرنیچر کی خریداری کی تفصیلات پیش کی جائیں۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ نئے بیرونی قرضے لینے سے گریز کیا جائے اور مالی نظم و ضبط، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی مفاد کا تحفظ اور عوام پر قرضوں کے بوجھ میں کمی ممکن ہو سکے۔

متعلقہ

Load Next Story