انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند؛ امریکا نے ایران کے سامنے 3 مطالبات رکھ دیئے
جنگ مسلط کرنے اور جوہری مذاکرات پر دھونس دھمکی؛ ایران کا امریکا کو دندان شکن جواب
امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری ہیں لیکن دونوں فریقوں کے درمیان پہاڑ جیسے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان جوہری مذاکرات کا مقصد جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے لیکن امریکا نے سخت مطالبات رکھ دیئے جس کے باعث دور دُور تک بھی معاہدہ کا ہوجانا نظر نہیں آتا۔
امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنی تمام اہم جوہری تنصیبات نطنز، اصفہان اور فُردو کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔
علاوہ ازیں ایران نے ان تنصیبات میں اب تک جتنا بھی یورینیئم افرود کیا ہے وہ تمام کی تمام امریکا منتقل کردے۔
امریکا نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پاجاتا ہے تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والی مدت کے لیے ہو یعنی اس میں محدود مدت کی کوئی شق نہ ہو۔
یاد رہے کہ امریکا یہ مطالبات 2015 میں ایران کے دیگر عالمی قوتوں سے ہونے والے مشترکہ جوہری مذاکرات سے بالکل مختلف ہیں۔
جس میں ایک محدود مدت کے بعد پابندیوں کے خاتمے کی شق بھی شامل تھی۔ امریکا اسی شق خارج کرنے پر زور دے رہا ہے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عرب سفارتکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو جوہری معاہدے کا مجوزہ مسودہ پیش کیا ہے۔
عرب سفارتکار کے بقول اس مسودے میں ایران نے یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد سے کم کر کے 3.6 فیصد تک لانے کی تجویز دی ہے۔
تاہم ایرانی حکام نے عرب سفارت کار کے اس دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔