خیبر پختونخوا میں بزرگ شہریوں کو مفت علاج کی سہولت نہ مل سکی

سینئر سٹیزن ایکٹ منظوری کے گیارہ سال بعد بھی عملدرآمد کا منتظر

پشاور:

خیبرپختونخوا میں سال 2014 میں منظور ہونے والے سینئر سٹیزن ایکٹ پر گیارہ سال بعد بھی عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔

ایکٹ کے تحت بزرگ شہریوں کو اسپتالوں میں مفت علاج و اداویات کی سہولیات مل سکیں نہ نقد امداد دی جاسکی، عجائب گھروں اورپارکوں میں مفت داخلہ بھی ممنوع ہے۔

بزرگ شہریوں کو مالی معاونت کی فراہمی کے لئے خیبرپختونخوا سینئر سیٹزن ویلفیئر فنڈ کا قیام بھی صرف ایکٹ تک محدود ہے۔ ایکٹ کے تحت سینئر سٹیزن کونسل بنائی گئی تھی، آٹھ ممبران پر مشتمل کونسل کے صرف چاراجلاس ہی ہوسکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت معمر افراد کی جانب سے سات لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں تین لاکھ پچاس ہزار بندوبستی اور باقی درخواستیں سابق فاٹا سے موصول ہوئیں، توقع سے زیادہ درخواستیں آنے پر منصوبہ ٹھپ ہوگیا۔

منصوبے کیلئے ابتدائی طورپر صرف ایک کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے، سات لاکھ کارڈ بنانے کے اخراجات ڈیڑھ ارب روپے نکل آئے۔ گیارہ سال میں ایکٹ کونافذ کرنے اور بزرگ شہریوں کو سہولیات دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاسکے۔

 گیارہ سال بعد ایک بار پھر محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے چیف سیکرٹری کومراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں سینئر سٹیزن کونسل کو دوبارہ بحال کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاہم درخواست کو ایک ماہ سے زائد مدت گزرنے کے باوجود کونسل کا معاملہ تعطل کا شکار ہے۔

Load Next Story