ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس؛ ٹرائل کورٹ کارروائی کیخلاف ملزم کی درخواست خارج
ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف ملزم کی درخواست خارج کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف ملزم عمر حیات کی درخواست خارج کر دی۔ یہ درخواست ملزم اور اس کے وکیل کی عدم موجودگی میں گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
کیس کی سماعت کے بعد جسٹس خادم حسین سومرو نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جس میں قرار دیا گیا کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں کوئی قانونی سقم، بے قاعدگی یا دائرہ اختیار کی غلطی نہیں پائی گئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھا جو قانونی طور پر درست حاضری تصور ہوتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالتی آرڈر شیٹس کو درست اور مستند تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ٹرائل کورٹ پر مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت جلد ٹرائل کا حق انصاف کے وسیع تر عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ وکیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی سہولت کے بجائے مقدمے کی پیش رفت کے لیے عدالت میں دستیاب رہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ محض خدشات کی بنیاد پر کسی عدالتی افسر کے طرزِ عمل پر الزامات عائد کرنا درست نہیں کیونکہ جج کی کارروائی کے ساتھ غیر جانبداری کا تصور جڑا ہوتا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ مزید تاخیر کی صورت میں ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی وکیل کو مستقبل میں ٹرائل کورٹ کے خلاف غیر مصدقہ الزامات لگانے سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
واضح رہے کہ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ ملزم اور وکیل کی عدم موجودگی میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، اس لیے ان بیانات کو خارج کر کے دوبارہ قلمبند کیا جائے، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔