ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال 430 ارب روپے تک پہنچ گیا
(فوٹو: فائل)
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کا رواں مالی سال 26-2025کے پہلے 8 ماہ(جولائی تا فروری)کے دوران ریونیو شارٹ فال430 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگیا ہے اور صرف فروری میں ہی 85 ارب روپے کا ریونیوشارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کے بڑھتے ہوئے ریونیو شارٹ فال کے باعث وفاقی حکومت کی مالی صورت حال پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ایف بی آر کو رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 430 ارب روپے کے نمایاں شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق فروری میں سپر ٹیکس کی وصولیوں اور غیر معمولی انفورسمنٹ اقدامات کے باوجود محصولات میں خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر نے جولائی تا فروری مجموعی طور پر 8,120 ارب روپے جمع کیے جبکہ اس مدت کے لیے مقررہ ہدف 8,550 ارب روپے تھا، یوں محصولات ہدف سے خاصی کم رہیں۔
ایف بی آر کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں عبوری طور پر 944 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں جبکہ اس ماہ کا ہدف ایک ہزار 29 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، اس طرح صرف فروری میں ہی 85 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا جو حکومتی مالی اہداف کے حصول کے لیے ایک تشویش ناک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن تیسرے اقتصادی جائزے کے لیے پاکستان میں موجود ہے اور ایف بی آر آئی ایم ایف سے رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کے ہدف پر نظر ثانی کے لیے بات چیت کی تیاری کر رہا ہے۔