ایران کی نئی قیادت مذاکرات چاہتی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

میں نے مذاکرات پر اتفاق کیا ہے اورمیں ان سے بات کروں گا، انہیں یہ بہت پہلے کرنا چاہیے تھا، امریکی صدر

فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور انہوں نے اتفاق بھی کرلیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلانٹک میگزین کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں اور میں نے مذاکرات پر اتفاق کیا ہے اورمیں ان سے بات کروں گا، انہیں یہ بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ جو چیز بہت عملی طور پر اور آسانی سے کی جا سکتی تھی وہ انہیں پہلے ہی فراہم کر دینی چاہیے تھی لیکن انہوں نے بہت زیادہ دیر کر دی۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان سے بات کس لیڈر کی ہے اور آنے والے ایک سے دو دنوں میں کس ایرانی رہنما سے بات کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں شامل چند افراد اب زندہ نہیں ہیں، امریکی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان لوگوں میں سے اکثریت زندہ نہیں ہے، وہ چند لوگ جن کے ساتھ ہم معاہدہ کرنا چاہتے تھے وہ نہیں رہے کیونکہ حملہ بہت بڑا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہیں یہ پہلے کرنا چاہیے تھا، وہ معاہدہ کرسکتے تھے اور ایسا انہیں پہلے کردینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے انتہائی چالاکی دکھائی۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان سمیت عدلیہ اور بااثر کونسل کے اراکین نے عارضی طور پر سپریم لیڈر کے اختیارات استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔

مسعود پزشکیا نے سپریم لیڈڑ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کی شہادت کا بدلہ لینا ایران پر فرض اور جائز حق قرار دیا اور کہا کہ اس تاریخی جرم کے ذمہ داروں اور اس کا حکم دینے والوں سے انصاف لینا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اس اقدام کے ذمہ داروں سے انتقام لینے کے لیے ایران اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔

متعلقہ

Load Next Story