مہینوں منصوبہ بندی، نگرانی اور 60 سیکنڈ کی بمباری؛ شہادتِ خامنہ ای کی لمحہ بہ لمحہ کہانی
خامنہ ای کی شہادت کے لیے امریکا اور اسرائیل نے مہینوں منصوبہ بندی اور ہفتوں سے کڑی نگرانی جاری تھی
دنیا کے طاقتور ترین اور جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ممالک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے متعدد بار قتل کی دھمکیوں کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای نے محفوظ مقام پر جانے کے بجائے اپنی ہی سرزمین پر شہادت کو ترجیح دی۔
ہفتوں قبل نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اہل خانہ کے ہمراہ روس یا کسی اور محفوظ ملک منتقل ہو رہے ہیں تاکہ اسرائیلی اور امریکی شر انگیزیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
تاہم اُس وقت آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ترجمان نے ایران چھوڑنے کی اطلاعات کو بے بنیاد اور مکمل جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایسی کسی دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں اور نہ ہی اپنے وطن اور اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
غیر ملکی یہ رپورٹس لغو اور آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ترجمان کا بیان درست ثابت ہوا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی زندگی کا آخری سانس بھی سرزمین ایران پر دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے لیا۔
گزشتہ روز رہبر اعلیٰ تہران میں اسرائیلی حملے میں ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے جس کی تصدیق ایرانی حکومت نے بھی کردی اور ان کی ملبے تلے دبی لاش کی تصویر بھی سامنے آگئی۔
حملوں میں وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پالپور، سپریم نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ علی شامخانی اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی بھی شہید ہوئے۔
مہینوں کی منصوبہ بندی اور ہفتوں سے جاری کڑی نگرانی
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے لیے اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس مہینوں سے منصوبہ بندی میں مصروف تھے جب کہ کئی ہفتوں سے رہبراعلیٰ کی نقل و حرکت اور روز مرہ معمولات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور ان کے پیٹرن کو سمجھ لیا گیا تھا۔ البتہ ہمیں اپنے آپریشن کی اتنی جلدی کامیابی کی امید نہ تھی۔
کڑی نگرانی کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ایک ’’بریک تھرو ٹپ‘‘ ملی کہ آیت اللہ خامنہ ای ایک کمپاؤنڈ میں جائیں گے جہاں وہ ہفتے کی صبح دفاعی نوعیت کا ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔
امریکی خفیہ ایجنسی کی اس مصدقہ اطلاع سے اسرائیل کو آگاہ کیا گیا کیوں کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری اسرائیل کی تھی۔ یہ ایک مختصر مگر نادر موقع ثابت ہوا جس کے بعد فوری طور پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
ایسی کارروائیوں کے لیے عمومی طور پر نصف شب کو کی جاتی ہیں لیکن امریکا اور اسرائیل نے رات کا انتظار کرنے کے بجائے صبح کے وقت ہی حملے کا فیصلہ کیا اور اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی محض 60 سیکنڈ میں مکمل کی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق لڑاکا طیاروں نے تہران میں واقع اس زیر زمین تہہ در تہہ بنے بنکر کو تباہ کرنے کے لیے تقریباً 30 مختلف قسم کے بموں سے نشانہ بنایا تاکہ بنکر میں موجود کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہ رہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں خامنہ ای کے ساتھ ایرانی سیکیورٹی قیادت کے سات اہم ارکان، درجن بھر قریبی ساتھی اور تقریباً 40 دیگر سینئر ایرانی حکام بھی شہید گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر جدید نگرانی اور ٹریکنگ سسٹمز سے بچ نہیں سکے۔
خفیہ نگرانی کیسے کی گئی؟
انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق خامنہ ای کی نقل و حرکت جاننے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے گئے، جن میں ٹیلی فون اور مواصلاتی نظام کی نگرانی، باڈی گارڈز، قریبی افراد کی ٹریکنگ، زمینی مخبروں کا نیٹ ورک شامل اور جدید تکنیکی نگرانی شامل تھی۔
اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران میں اپنے مخبروں اور ایجنٹوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کر چکا تھا جس کی مدد سے ایرانی حکام اور سائنسدانوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔