خامنہ ای کیخلاف آپریشن 3 ہفتوں کا تھا، ہم نے ایک دن میں کرلیا؛ ٹرمپ نے تفصیلات بتادیں

امریکی صدر نے ایران حملے کی حمایت نہ کرنے پر برطانوی وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

ٹرمپ نے وینزویلا میں ملٹری آپریشن کے دوران بہت سے کیوبائی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حملے میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف کیے گئے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اب وقت نکل گیا انھیں یہ فیصلہ پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا۔ یہ معاہدہ ایک ہفتہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے تھا۔

امریکی صدر نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعض فیصلوں سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کا منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طویل آپریشن کا اندازہ لگایا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرنے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی دن میں ہوگیا۔

مزید پڑھیں : آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

امریکی صدر نے بتایا کہ عسکری ماہرین اس آپریشن کو تقریباً 4 ہفتوں کا آپریشن سمجھ رہے تھے مگر کارروائی منصوبے سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن چار ہفتوں تک چلنے کا امکان تھا مگر ہم نے اپنا ہدف شیڈول سے بہت پہلے ہی حاصل کرلیا۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی کئی ہفتوں سے کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا لبنان پر حملہ، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کی شہادت کا دعویٰ

امریکی صدر کے بقول اسی دوران سی آئی اے کو ایک اہم معلومات ملیں اور ہم نے یہ نادر موقع ضائع نہ ہونے دینے کا فیصلہ لیا۔

برطانیہ کے فیصلے پر ناراضی

انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں برطانوی حکومت کے ایک فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی۔

امریکی صدر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے اپنے زیر انتظام اہم فوجی اڈے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

مزید پڑھیں : ایران پر حملے؛ اپنے بہترین دوست اور عظیم لیڈر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں؛ نیتن یاہو

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ نے بحرِ ہند میں واقع اہم فوجی اڈے ڈیگو گارسیا کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی جس سے انہیں مایوسی ہوئی۔

یہ اڈہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں امریکا اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں فوجی کارروائیوں کے لیے اسے استعمال کرتے رہے ہیں۔

 

Load Next Story