ضرورت پڑنے پر ایران میں اپنی فوج بھی اتار سکتے ہیں؛ ٹرمپ کی نئی دھمکی

ایران پر امریکی حملے کی سب سے بڑی لہر آنے ہی والی ہے، صدر ٹرمپ

اگر ایران نے ڈیڈ لائن سے قبل معاہدہ نہیں کیا تو بڑا حملہ کریں گے؛ امریکی صدر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی برّی فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق امریکی صدور کی طرح قطعی اعلان نہیں کرتے کہ کسی بھی صورت میں برّی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر حال میں برّی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت ہوئی تو اسے خارج از امکان بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف سب سے بڑی شدت کے فضائی حملے ابھی نہیں کیے گئے۔ اصل بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے جو جلد آئے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اب تک کی بڑی لہر ہوگی جس میں بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے بارے میں بتایا کہ حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تہران میں ایک اجلاس میں موجود تھے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 49 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے جن میں فوجی اور سکیورٹی قیادت کے افراد بھی شامل تھے۔

ایران پر حملے کے مقاصد کیا تھے؟

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آپریشن کا مقصد انھیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا، ان کے بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی تباہی اور ایرانی بحریہ کو نیست و نابود کرنا تھا۔

انھوں نے تمام اہداف کے حصول تک ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایران سے دنیا کو لاحق خطرات اور عالمی امن یقینی بنانا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ ملک اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد افواج کو اسلحہ، فنڈز اور ہدایات فراہم کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج ملک ان چار امریکی فوجیوں کے لیے سوگ منا رہا ہے جو ایران کے خلاف کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان فوجیوں کی یاد میں ہم اس مشن کو زبردست اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ابتدا میں چار سے پانچ ہفتوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ’اس سے کہیں زیادہ دیر تک جانے کی صلاحیت ہے۔

عرب ممالک کی شمولیت پر حیرت

امریکی صدر نے کہا کہ اس جنگ میں ایک بڑی غیر متوقع پیش رفت یہ رہی کہ ایران نے بعض عرب ممالک کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد وہ ممالک خود جنگ میں زیادہ سرگرم ہوگئے۔

ٹرمپ کے مطابق ابتدا میں ان عرب ممالک کا کردار محدود رہنے کا امکان تھا تاہم حملوں کے بعد وہ خود اس تنازع میں شامل ہونے پر اصرار کر رہے ہیں۔

خامنہ ای کی جگہ کون لے گا؟

ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ملک کا اگلا رہنما کون ہوگا۔

البتہ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کی موجودہ قیادت جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اب کافی دیر ہوگی۔ انھیں یہ فیصلہ ایک ہفتے پہلے کرلینا چاہیے تھا۔

Load Next Story