جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت اور طبی پودوں کا بے دریغ استعمال، حیاتیاتی تنوع کیلئے سنگین خطرات
عالمی یوم جنگلی حیات 2026 کے موقع پر عالمی ادارہ برائے فطرت پاکستان نے ملک میں غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت اور غیر پائیدار طریقوں سے قدرتی وسائل کے حصول کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ادارے کے مطابق جنگلی حیات کی اسمگلنگ عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے جبکہ پاکستان اس غیر قانونی تجارت میں منبع اور راہداری دونوں کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ رینگنے والے جانوروں، ممالیہ، اور قیمتی طبی پودوں سمیت مختلف انواع کی غیر قانونی نکاسی نہ صرف انواع کے تحفظ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ نازک ماحولیاتی نظام کو بھی کمزور بنا رہی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر نفاذ کے نظام کو مضبوط، اداروں کے درمیان روابط بہتر اور فیلڈ میں کام کرنے والے عملے اور عدالتی اہلکاروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی مؤثر روک تھام اور قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔
سینئر منیجر کنزرویشن محمد جمشید اقبال چوہدری کے مطابق ادارے نے غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام کے لیے جامع تربیتی نصاب اور حکمت عملی تیار کی ہے۔ ملک بھر میں اسمارٹ مانیٹرنگ، انواع کی شناخت، جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی تفتیش، رینجرز کی حفاظت، محفوظ طریقے سے جانوروں کو سنبھالنے اور کمیونٹی کی شمولیت کے موضوعات پر تربیت دی جا رہی ہے۔
سینئر منیجر کنزرویشن کے مطابق ایک ہزار دو سو سے زائد افراد، جن میں مقامی کمیونٹی کے افراد، طلبہ، صحافی اور مقامی رہنما شامل ہیں، آگاہی سیشنز اور ویبینارز میں شریک ہو چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلی حیات کے تعاون اور مقامی برادریوں کی شمولیت سے دیوا وٹالہ نیشنل پارک میں حالیہ اقدامات کے دوران راک پائتھن، انڈین پینگولن، بھونکنے والے ہرن اور الیگزینڈرائن طوطوں سمیت متعدد انواع کو ریسکیو کر کے دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑا گیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز رب نواز نے کہا کہ مؤثر تحفظ کے لیے مضبوط نفاذ اور باخبر کمیونٹیز ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے اور مقامی شراکت داروں کی شمولیت کے ذریعے جنگلی حیات کے جرائم کی روک تھام اور نایاب انواع کے تحفظ کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔
ادارے نے عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 20 فیصد سے زائد طبی پودوں کی انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، جس سے قومی اور عالمی سطح پر مربوط تحفظی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔