بلاسم کا موسم اور ماحولیاتی تبدیلی
جب موسم سرما کی برف دھیرے دھیرے پگھلنے لگتی ہے اور ہواؤں میں نرمی آتی ہے تو گلگت بلتستان کی وادیاں ایک طلسماتی منظر پیش کرتی ہیں۔ ہر طرف پھولوں کا راج ہوتا ہے۔ چیری، خوبانی، بادام، سیب اور آڑو کے درخت سرخ، گلابی اور سفید رنگوں میں نہا جاتے ہیں۔
بلاسم یعنی پھول کھلنے کا موسم یہاں پر صرف ایک قدرتی نظارہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، زرعی اور ثقافتی جشن ہوتا ہے۔ لیکن پچھلے دس سال سے اس خوبصورتی کے پس منظر میں ایک خاموش خطرہ بھی چھپا ہوا ہے، یعنی ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ، جس سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کا وجود خطرے میں ہے۔
بلاسم یعنی پھول کھلنے کا موسم گلگت بلتستان میں حسن، اُمید اور آغاز کا موسم سمجھا جاتا ہے۔ مارچ اور اپریل کے آخر تک پورے گلگت بلتستان میں بلاسم کا راج ہوتا ہے۔ یہ موسم سردیوں کے جمود کے بعد زندگی کی ایک نئی لہر لاتا ہے۔ بہار کے جشن کے ساتھ کسان اپنی زمینوں کی تیاری کرتا ہے، سیاح اس وادیوں کا رخ کرتے ہیں اور مقامی لوگ اپنے روایتی گیتوں اور تہوار کے ذریعے اس تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ بلاسم یہاں صرف ایک موسمی مرحلہ نہیں بلکہ معیشیت، ثقافت اور فطرت کا امتزاج ہوتا ہے۔
ہنزہ، نگر، اسکردو اور غذر کی وادیاں پھولوں کی نمائش کےلیے خاص طور پر مشہور ہیں۔ برف سے ڈھکی چوٹیوں کے پیش منظر میں گلابی اور سفید پھول ایک متاثر کن نظارہ پیش کرتے ہیں۔ یہ موسم نہ صرف سخت سردیوں کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ مقامی برادریوں کےلیے تجدید اور امید کا وقت بھی پیش کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں مقامی لوگ اور ماہرین ماحولیات گلگت بلتستان کے موسموں میں کافی سال سے بہت زیادہ بے ترتیبی اور بلاسم کی بے وقتی بہار کی صورت میں ایک واضح تبدیلی محسوس کررہے ہیں۔ اب بلاسم کا موسم بہت جلدی آتا ہے یا کافی تاخیر سے بھی۔ اور بعض اوقات پھول کھلنے کے بعد برفباری یا ٹھنڈی ہوائیں درختوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کی وجہ گلوبل وارمنگ ہے، اور پاکستان میں اس کا سب سے زیادہ اثر گلگت بلتستان میں ہورہا ہے۔
قطبی خطوں سے باہر گلگت بلتستان دنیا کے چند بڑے گلیشیئرز کا گھر ہے، جس کی وجہ سے یہ موسمیاتی تبدیلیوں کےلیے انتہائی خطرناک ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھلنے میں تیزی آئی ہے۔ جس کی وجہ سے برفانی جھیلوں (GLOF) سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اور انسانی زندگیوں، انفرااسٹرکچرز اور ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ موسمی تبدیلیاں اس خطے میں ایگریکلچرل کے پھلنے پھولنے کےلیے درکار توازن کو بھی مسلسل متاثر کررہی ہیں۔
سال بہ سال گرمیاں طویل اور سخت ہوتی جارہی ہیں، جبکہ سردیاں یا تو معمول سے زیادہ شدید ہورہی ہیں یا بالکل مختلف طریقے سے نمودارہو رہی ہیں۔ گلیشیئرز کے تیزرفتار پگھلاؤ اور بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی سے زمین کی ساخت اور نمی متاثر ہوتی ہے۔ جس کا براہ راست اثر زراعت، درختوں کی نشوونما اور بلاسم پر پڑتا ہے۔ چونکہ پھول کھلنے کےلیے مخصوص درجہ حرارت اور نمی ضروری ہے، اس لیے یہ عوامل برہ راست بلاسم سیزن کی شدت اور مدت پر اثر انداز ہورہے ہیں۔
گلگت بلتستان کی ثقافت ہمیشہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہی ہے۔ مقامی لوک داستانیں، شاعری اور جشن اسی موسم بہار کے گرد گھومتے ہیں۔ جب موسم غیر یقینی ہوجائے تو صرف فصلیں متاثر نہیں ہوتیں بلکہ ایک پورا طرز زندگی خطرے میں آجاتا ہے۔
بزرگوں کے زراعتی تجربات اور پیش گوئیاں اب غیر موزوں ثابت ہورہی ہیں۔ کیونکہ اب فطرت ان کے پرانے اصولوں کے مطابق نہیں چلتی۔ گویا اب صرف فطرت نہیں ثقافت بھی متاثر ہورہی ہے۔
بلاسم ٹورازم نے حالیہ برسوں میں گلگت بلتستان کو ایک نیا تعارف دیا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح پوری دنیا سے پھولوں کی دلکشی کو دیکھنے کےلیے یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان مقامی معیشت کےلیے فائدہ مند ہے۔ مگر ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمد، کچرے کے ڈھیر اور وسائل پر دباؤ بھی ماحول کو نقصان پہنچارہا ہے۔ اگر اس سیاحت کو ماحولیاتی اصولوں کے مطابق منظم نہ کیا گیا تو وہی خوبصورتی جو سیاحوں کو کھینچتی ہے، تباہ ہوجائے گی۔ یعنی وہ دن دور نہیں جب ہنزہ مری بن جائے گا۔ لہٰذا سیاحت نعمت نہیں زحمت بن جائے گی۔
گلگت بلتستان کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اجتماعی طور پر کچھ اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس میں حکومت، بین الاقوامی ادارے اور مقامی کمیونٹی کا اشتراک ضروری ہے۔ جس میں مقامی کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت کی تربیت دینا، پائیدار سیاحت کو فروغ دینا تاکہ ماحول پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ موسمی پیش گوئی کے جدید نظام کو وادیوں تک پہنچانا، پانی کے پرانے طریقہ کار جیسے گلیشیئر گرافٹنگ وغیرہ کو جدید سائنسی بنیادوں پر بحال کرنا، زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرنا، نامیاتی کاشتکاری کی حوصلہ افزائی، کیمیائی استعمال کو کم کرنا اور پانی کے تحفظ کی تکنیکوں کو نافذ کرنا زرعی لچک کو بڑھا سکتا ہے۔ مقامی کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار طریقوں کے بارے میں آگاہی دینا، ماحولیاتی تحفظ کےلیے نچلی سطح پر تحریکوں کو فروغ دے سکتا ہے۔
حکام کو قابل تجدید توانائی، موسمیاتی موافقت کے منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایی کاری کرنی چاہیے جو پائیدار زراعت کو سپورٹ اور آب و ہوا کے مطابق لچکدار انفرااسٹرکچر تیار کرے۔ خطے کے منفرد چیلنجوں سے نمٹنے کےلیے موسمیاتی پالیسیاں جیسے گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی کی حکمت عملی اور ایکشن پلان کو نافذ اور توسیع دیں۔ موسمیاتی رجحانات کی نگرانی کےلیے سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری کریں اور خطے کی ضروریات کے مطابق موافقت پذیر حکمت عملی تیار کریں۔
بلاسم کا موسم ہمیں قدرت کی مہربانیوں کی یاد دلاتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک انتباہ بھی دیتا ہے کہ اگر ہم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ حسن محض تصویروں میں قید ہوکر رہ جائے گا۔
گلگت بلتستان میں پھولوں کا موسم صرف ایک بصری لذت نہیں ہے، بلکہ خطے کی ثقافتی اور ماحولیاتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس قدرتی ورثے کی حفاظت کےلیے مقامی کمیونٹیز، پالیسی سازوں اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ فعال اقدامات کرکے ہم اس بات کو یقینی بناسکتے ہیں کہ آنے والی نسلیں گلگت بلتستان کے پھولوں کی دلکش خوبصورتی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہیں۔
گلگت بلتستان کی وادیاں جو کبھی بہار کی نوید ہوا کرتی تھیں، اب ماحولیاتی بحران کی خاموش گواہ بن چکی ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم فطرت کی ان نرم سرگوشیوں کو سنیں، قبل اس کے کہ وہ چیخ بن جائے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔