آج کے دور میں دل کے امراض تیزی سے عام ہو رہے ہیں اور یہ مسئلہ اب صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوان بھی اس کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ مناسب غذا کا انتخاب نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً گوشت کھانے والے افراد میں یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ دل کی صحت کے لیے چکن زیادہ مفید ہے یا مٹن۔
ماہرینِ صحت کے مطابق متوازن غذا اور محتاط غذائی عادات دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نان ویجیٹیرین افراد کی غذا میں چکن اور مٹن دونوں ہی مقبول ہیں، تاہم غذائی اعتبار سے ان دونوں اقسام کے گوشت میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
چکن، خاص طور پر اس کا بریسٹ حصہ، کم چکنائی اور زیادہ پروٹین کے باعث نسبتاً صحت بخش تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 100 گرام چکن بریسٹ میں لگ بھگ 32 گرام پروٹین موجود ہوتی ہے جو جسم کی پروٹین کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اسی وجہ سے ورزش اور جم کرنے والے افراد بھی اپنی غذا میں چکن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چکن کو ابال کر، گرل کرکے یا کم تیل میں پکایا جائے تو یہ دل کے مریضوں کے لیے نسبتاً محفوظ انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب مٹن غذائیت کے اعتبار سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین کے علاوہ آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جو خون کی صحت، دماغی افعال اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم مٹن میں سیر شدہ چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق 100 گرام مٹن میں اوسطاً 12 سے 14 گرام تک چربی موجود ہوتی ہے اور اگر اسے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق دل اور ذیابیطس کے مریضوں کےلیے چکن نسبتاً بہتر انتخاب ہے، جبکہ مٹن کو اعتدال کے ساتھ کھانا چاہیے۔ ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ دل کی بہتر صحت کےلیے غذا میں مچھلی کو شامل کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ دل کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دل کی حفاظت کے لیے صرف گوشت کا انتخاب ہی نہیں بلکہ کم چکنائی والی متوازن غذا، مناسب ورزش اور اعتدال پر مبنی طرزِ زندگی بھی بے حد ضروری ہے۔