مشرق وسطیٰ جنگ؛ دبئی میں سونا رعایتی نرخوں پر فروخت ہونے لگا
متحدہ عرب امارات میں ایران نے امریکی اڈّوں کا نشانہ بنایا ہے
اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے اور ایران کے خلیجی ممالک میں جوابی حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات اب دبئی کی سونے کی مارکیٹ تک پہنچ گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بہت تیزی سے جاری ہے۔ غیر یقینی صورت حال اور دباؤ کے باعث تاجر اضطراب کے عالم میں سونا عالمی نرخوں سے کہیں کم قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 24 قیراط سونا گزشتہ دنوں میں فی تولہ تقریباً 7,581 درہم تک پہنچا جبکہ کچھ رعایتی سودوں میں 30 ڈالر فی اونس تک کمی دیکھی گئی۔ جنگی کشیدگی اور ترسیل میں رکاوٹ کے باعث خریدار بھی محتاط ہو گئے ہیں۔
ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں فضائی سفر اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ متعدد پروازوں کی منسوخی اور ترسیل کے مسائل کے باعث سپلائرز کے لیے سونے کو بڑے تجارتی مراکز تک پہنچانا مشکل ہو گیا ہے۔
عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئے عدم استحکام اور امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی سونے کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کیا ہے۔ دبئی میں سونے کی قیمتیں عالمی اوسط سے کم ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار اور عام صارفین دونوں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔
علاوہ ازیں چھوٹے دکاندار بھی نئی خریداری سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ جنگی صورتحال کے باعث شپنگ اور انشورنس کے اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں جبکہ بروقت ترسیل کی بھی کوئی واضح ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
اس صورتحال میں اماراتی تاجر اضافی اسٹوریج اور فنڈنگ کے اخراجات سے بچنے کے لیے سونا عالمی معیار کے مقابلے میں کم قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سونا لندن کے عالمی معیار کے مقابلے میں فی اونس تقریباً 30 ڈالر تک رعایت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی، ایشیا میں سونے کی تجارت کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے سونا نہ صرف ایشیائی منڈیوں کو برآمد کیا جاتا ہے بلکہ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور کئی افریقی ممالک سے آنے والے سونے کی ترسیل بھی اسی راستے سے کی جاتی ہے۔