آیت اللہ علی خامنہ ای، عظیم رہنما
میں آج یہ کالم اشک بارآنکھوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح کے الفاظ کا چناؤکروں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری دنیا اجڑ چکی ہے۔
زندگی جینے کا مزہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایک کے بعد ایک شہادت جس میں شہید اسماعیل ہانیہ ہوں، شہید یحییٰ سنوار ہوں، شہید حسن نصر اللہ ہوں اور شہید ہاشم صفی الدین کے ساتھ ابو عبیدہ اور ابو حمزہ جیسے دیگر درجنوں سیکڑوں شہیدوں کی شہادت گزشتہ ڈھائی سال میں ہو چکی ہے۔
اور اب ان تمام شہیدوں کے امام یعنی امام شہیدان حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو چکے ہیں۔
دل اور دماغ دونوں ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن یہ ایک کڑوی اور تلخ حقیقت ہے جسے قبول کرنا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای 86 سال کی عمر میں شہید ہوئے، انھوں نے پوری زندگی اسلام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں باہمی اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کی بیش بہا کوشش جاری رکھی۔
یہاں تک کہ جب ان کے دفتر پر امریکا اور اسرائیل نے حملہ کیا تو وہ اس وقت بھی اپنے دفتری کاموں میں مصروف تھے، وہ زمین پر ولی اللہ تھے۔
وہ ہمیشہ شہادت کے طلبگار تھے۔ وہ صرف ایران کے رہنما یا رہبر نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے اور ساتھ ساتھ دنیا بھرکے ان تمام حریت پسندوں کے آئیڈیل تھے جو دنیا میں ظلم کے خاتمے کی جدوجہد میں کسی نہ کسی طرح شامل ہیں، وہ مظلوموں کی امیدوں کا محور تھے۔
وہ فلسطین کی آزادی کے علمبردار تھے۔ انھوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ چاہے وہ زندہ ہوں یا نہ ہوں آپ لوگ قدس کو آزاد دیکھیں گے اور قدس میں نماز ادا کریں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا درد ہمیشہ ہمارے دل میں رہے گا۔ دنیا میں آنے والی نسلیں ہمیشہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیرت سے درس حاصل کریں گی، لیکن یہ فراق ہم جیسوں سے قابل برداشت نہیں ہے۔
دنیا بھر میں ان کے عاشق ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہیں، لیکن یہ کیفیت ہمیں کسی مایوسی کی طرف نہ لے جائے۔ خبردار ! ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای شریف النفس انسان تھے ۔
جب غم سینہ پھاڑ کر نکلتا ہے تو آنکھوں سے بے تحاشہ اشک بھی نکل آتے ہیں، یہ درد آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے لیکن اس درد میں جو بات ہمیں سہارا دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ احد میں جب کفار و مشرکین نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں جھوٹی خبر پھیلائی تھی تو قرآن مجید میں سورۃ آل عمران آیت 144میں اللہ نے فرمایاحضرت محمد ﷺ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟
اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔‘‘
آج ہم امام خامنہ ای کی شہادت پر سوگوار تو ہیں اور غمزدہ بھی ہیں لیکن دین اسلام باقی ہے، معرکہ حق و باطل باقی ہے۔ جب تک معرکہ حق و باطل باقی ہے تو ہم بھی باقی ہیں۔
پس یہ جملہ کہ جس میں ہم کہتے ہیں کہ اسلام زندہ ہے یقینی طور پر دنیا کے مظلوموں کو ایک ڈھارس دیتا ہے اور یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے کام کو جاری رکھیں۔ مشن سے کوتاہی نہ کریں، سستی نہ کریں، آپس میں اتحاد کو قائم رکھیں، دشمن کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں جیسے ہمارے امام خامنہ ای نے کیا ہے۔
یقین رکھیں اسلام زندہ ہے خدا حی و قیوم ہے، یہ صرف ایک جملہ نہیں، یہ ایک یقین ہے۔ یہ اعلان ہے کہ حق زندہ ہے، عدل زندہ ہے، مظلوموں کا سہارا زندہ ہے۔
جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اسلحہ خانوں اور میڈیا کی یلغار پر غرورکرتی ہیں، تب اہلِ ایمان یہ کہتے ہیں خدا حی و قیوم ہے اور جب خدا حی و قیوم ہے تو امید بھی زندہ ہے، فتح بھی زندہ ہے اورکامیابی بھی یقینی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی جدوجہد کا مرکز یہی یقین ہے کہ طاقت کا سرچشمہ ٹینک اور طیارے نہیں بلکہ ایمان، صبر اور استقامت ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا، اسی لمحے اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ فرعونوں کی سلطنتیں ہوں یا جدید استعمارکی قوتیں سب کو وقت نے مٹا دیا،کیونکہ خدا کا قانون اٹل ہے، ظلم باقی نہیں رہتا۔
آج اگر امریکا اورغاصب صیہونی ریاست اسرائیل اپنی عسکری طاقت پر نازاں ہیں، تو انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا غرور سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے۔ جو قومیں انصاف کو پامال کرتی ہیں، معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتی ہیں اور اقوامِ عالم کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ظاہری طاقت کے باوجود اخلاقی شکست سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔ حق کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
خدا حی و قیوم ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کی مائیں اکیلی نہیں، غزہ کے بچے بے سہارا نہیں ہیں اور حریت کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ ہر آنسو جو مظلوم کی آنکھ سے گرتا ہے، وہ خدا کی عدالت میں گواہی بنتا ہے اور خدا کی عدالت میں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔
یہ یقین ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی کفرکے قریب لے جاتی ہے اور امید ایمان کی روح ہے۔ جب اہلِ حق استقامت دکھاتے ہیں تو دشمن کی صفوں میں خوف اترتا ہے۔
آج دنیا بھر میں بیداری کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ باطل کے بیانیے کمزور ہو رہے ہیں اور حق کی آواز مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب طاقتور سمجھنے والے کمزور ہو رہے ہیں اور مظلوم سمجھے جانے والے تاریخ کا رخ موڑ رہے ہیں۔
ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کی بنیاد جبر اور استحصال پر ہے، اور جبرکی بنیادیں ہمیشہ کمزور ہوتی ہیں۔
ان کی ناکامیاں ان کے اپنے فیصلوں، داخلی اختلافات اور اخلاقی دیوالیہ پن سے جنم لے رہی ہیں۔ دنیا کی رائے عامہ بدل رہی ہے، نوجوان نسل سوال اٹھا رہی ہے اور حق کی حمایت عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے۔