فوری انصاف کی فراہمی

حکومتی اداروں سے انتظامی طور پر اس کی حیثیت بالکل علیحدہ ہوتی ہے

قارئین! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام آئین پاکستان 1973 کے تحت قائم ہے جس کا مقصد ملک میں انصاف کی فراہمی، قانون کی بالا دستی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

پاکستان کا عدالتی ڈھانچہ بالترتیب اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹ آف پاکستان)، صوبائی سطح پر ہائی کورٹس، ضلعی سطح پر ماتحت عدلیہ جیسے سیشن کورٹس، ڈسٹرکٹ کورٹس، سول اورکریمنل عدالتیں اور مخصوص نوعیت کے مقدمات کی پیروی کے لیے خصوصی عدالتیں یعنی انسداد دہشت گردی و فیملی تنازعات ، لیبر عدالتوں کے علاوہ ٹیکس ٹریبونلز وغیرہ پر منحصر ہیں۔

قابل افسوس ہے یہ امرکہ ان عدالتوں میں انصاف کا حصول ایک کٹھن اور ایک مشکل کام ہے۔ عام آدمی ان عدالتوں سے رجوع کرتے ہوئے گھبراتا ہے۔ بعض مقدمات قانونی، سماجی، معاشرتی پیچیدگیوں کا شکار ہوکر التوا میں پڑے رہتے ہیں اور بعض اوقات سائل فیصلے کی آس میں اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔

یہ تو تھا ہمارے وطن عزیزکا عدالتی پروسیس۔ مگر ہم یہاں عدالتی نظام سے ہٹ کر ایک ایسے منفرد انصاف کا طریقہ کارکا ذکرکرنا چاہیں گے جو حکومتی اداروں اور ملک کے شہریوں کے درمیان رونما ہوتے ہیں کیونکہ ایک جمہوری نظام میں عوام ہی طاقت کا سر چشمہ ہوا کرتے ہیں اور ان کا براہ راست تعلق حکومت کے عوامی اداروں کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے محتسب کے اداروں کا قیام ناگزیر سمجھا گیا جس کا مقصد عوام کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنا ہے۔ یہ نامیاتی قانون کے تحت عام زندگی میں حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

اس لیے بجائے عوام کی پیدا ہونے والی شکایات کے ازالے کے لیے ان مہنگی عدالتوں کا رخ کرنا پڑے ۔ محتسب ایک ایسا آزاد اور غیر جانبدار موثر اور عوام دوست سرکاری ادارہ ہے جو انتظامیہ کی غلطی، زیادتی، ناانصافی یا تاخیر کے خلاف شہریوں کی شکایات کے ازالے کا فیصلہ کر سکے۔

قرآن پاک کی سورۃ النحل کی آیت 90 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اللہ تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے‘‘ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری آبادی کی کثیر تعداد ایسی ہے جس کو ان اداروں کے بارے میں معلومات نہیں ہے، اگر معلوم بھی ہے تو وہ ان اداروں تک رسائی سے انجانے خوف کا شکار محسوس کرتے ہیں۔

یہاں ہمارے لکھنے کا مقصد بنیادی طور پر یہی ہے ایسے طبقہ کو ان اداروں کی کارکردگی سے متعلق بتایا جائے تاکہ وہ کسی قسم کے خوف کا شکار محسوس نہ کرسکیں اور بلا خوف وخطر ان اداروں سے رابط کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔

عدل کے نقش قدم پر جو چلا محتسب تھا

ظلم کے چہرے سے پردہ جو ہٹا محتسب تھا

محتسب کا ادارہ دنیا کے متعدد ممالک میں انصاف کے متبادل نظام Alternate Dispute Resolution کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ محتسب کا لفظ عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کا بنیادی مقصد شہریوں کی شکایات سننا، سرکاری اداروں کی اغلاط کو درست کرنا اور عوام کو غیر ضروری رکاوٹوں اور ناانصافی سے بچانا ہے۔

پاکستان میں یہ ادارہ عوام کو تیز،کم خرچ اور غیرجانبدار انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ تاریخی نقطہ نگاہ سے محتسب کا تصور اسلامی تاریخ میں خلافت راشدہ کے زمانے سے ملتا ہے جب بازاروں،گلیوں اور سرکاری معاملات کی نگرانی کے لیے ’’ صاحب الحسبہ‘‘ نامی عہدہ موجود تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ قدیمی نظام ارتقا پاتا ہوا جدید ریاستوں میں ’’Ombudsman‘‘ کی شکل اختیارکرگیا اور یوں سوئیڈن یورپ کا وہ واحد ملک ہے جہا ں باقاعدہ اس تصورکا آغاز ہوا، جوکامیابی کی منزلیں طے کرتا ہوا دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی رائج ہوتا چلا گیا۔ Ombudsmanسوئیڈش زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نمایندے کے ہوتے ہیں۔

1983 کی دہائی میں وطن عزیز پاکستان میں بھی مرکزی اور وفاقی سطح پر تجرباتی طور پر اس ادارے کا قیام عمل میں آیا تاکہ عدالتوں پر بڑھتے ہوئے مقدمات کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

وفاقی سطح پر محتسب کے قیام کا تجربہ کامیاب ہوا اور یوں شکایات کا بوجھ واحد اس ادارہ پر بڑھتا گیا۔ اس ادارے کی وفاقی سطح پر اہمیت و افادیت اور اس کی عوام میں شہرت کی وجہ سے اس کے دائرہ اثر میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا، لٰہذا فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی سطح پر بھی محتسب مقرر کیے جائیں۔

وفاقی اور صوبائی سطح پر تسلی بخش کارکردگی نمایاں رہی اور یوں زندگی کے دیگر شعبہ جات میں بھی اس کا قیام ہوتا چلاگیا جیسے بینکوں، مالیاتی اداروں اور صارفین کے درمیان تنازعات میں گفت و شنید کے لیے ’’ بینکنگ محتسب‘‘، ٹیکس سے متعلق نا انصافیوں، تاخیر اور غلط فیصلوں کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے ’ ٹیکس محتسب ‘، انشورنس کمپنیوں کے خلاف شکایات کی سماعت کے لیے ’ انشورنس محتسب ‘ اور خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے ’’انسداد ہراسگی محتسب‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ الحمد للہ ! یہ تمام ادارے اپنی اپنی جگہ بہتر کارکردگی پیش کر رہے ہیں۔

حکومتی اداروں سے انتظامی طور پر اس کی حیثیت بالکل علیحدہ ہوتی ہے۔ کیس کا فیصلہ مکمل انصاف، غیر جانبداری اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ شکایت کنندہ سے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔

ہر شہری بذریعہ تحریری خط، آن لائن یا خود دفتر میں درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ شہری کی طرف سے شکایت درج کرنا، ابتدائی جانچ پڑتال، متعلقہ ادارے سے جواب طلبی، شواہد کا جائزہ اور سماعت۔ فیصلہ یا سفارش جاری کرنا۔

ادارے کی کارکردگی کی نگرانی۔ اداروں سے ریکارڈ طلب کرنا، انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل، تاخیر یا غلط اور بے بنیاد فیصلہ پر نوٹس جاری کرنا، متعلقہ ادارے کو حکم دینا کہ شکایت کنندہ کو جلد اور فوری انصاف فرا ہم کرنا، بدعنوانی یا سنگین بد انتظامی پر اعلیٰ حکام کی رپورٹ کرنا۔

محتسب کا موقر ادارہ عوام کی بے لوث خدمت اور شفافیت کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا۔ اس کے اہم مقاصد میں عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان تنازعات کا فوری حل، سرکاری اداروں کی بد انتظامی Maladministration کا خاتمہ، عوامی شکایات درج کرانے کا سہل طریقہ کار، سرکاری کارکردگی میں بہتری اور احتساب کا عمل، انصاف تک سہل،کم خرچ اور تیز رسائی جیسے عوامل فاضل محتسب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ محتسب کے فیصلوں پر بروقت اور تیز رفتاری سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہمارے ملک کے عدالتی نظام کے تحت اعلیٰ عدالتی فیصلے طویل عرصے تک التواء کا شکار رہتے ہیں اور ضرورت مند سائل بروقت انصاف کے حصول سے محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فیصلوں پر اطلاق ترجیحی بنیادوں پرکیا جانا چاہیے۔

اس ضمن میں بعض عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سول سروسز کے بعض نااہل اور مادیت پرست طاقتور بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس دونوں مشترکہ طور پر ان فیصلوں کے فوری اطلاق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو یقینا مافیا کا اہم حصہ ہیں۔

بلاشبہ بہترین طرز حکومت وہی ہے جہا ں افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی ہو اور اسی پس منظر میں مختلف شعبوں کے محتسب کے ادارے عملی طور پر اپنی عائد ذمے داریاں بحسن خوبی نبھا رہا ہے۔

Load Next Story