1979 سے 2026۔ سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی
1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، تو پورا خطہ سرد جنگ کے زیر اثر آگیا۔ پاکستان، جو اس جنگ کا براہِ راست ہمسایہ ملک تھا، پاکستان نے فوری طور پر افغان شہریوں کے لیے سرحدیں کھول دیں۔
اس وقت کی حکومت، جنرل ضیاء الحق کی زیرِ قیادت، نے انسانی ہمدردی اور علاقائی ضرورت کے تحت مہاجرین کو خوش آمدید کہا۔
خیبر پختونخوا، بلوچستان اورکراچی میں مہاجرکیمپ قائم کیے گئے، جہاں خوراک، رہائش اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان افغان مہاجرین کے لیے دنیا کا سب سے بڑا میزبان ملک بن گیا۔
ابتدائی برسوں میں افغان مہاجرین کی اکثریت پرامن رہی اور انھوں نے محنت مزدوری، تجارت اور تعلیم میں بھرپور حصہ لیا۔ تاہم، 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں افغانستان میں جاری جنگ اور اسلحے کی آسان دستیابی نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نئے چیلنجز پیدا کیے۔
سرحدی پٹی میں اسلحے کی اسمگلنگ، منشیات کی غیر قانونی تجارت اور جرائم کے نئے نیٹ ورک نے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ سماجی نظم و نسق کو بھی متاثر کیا۔ کیمپوں کی غیر منظم ساخت اور سرحدی پٹی کی جغرافیائی پیچیدگی نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا۔
1990 کی دہائی میں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوا اور طالبان ایک منظم عسکری قوت کے طور پر ابھرے۔ 1996 میں طالبان نے کابل پر قبضہ کیا اور سخت مذہبی قوانین نافذ کیے۔
ان کے اقتدار کے دوران افغانستان میں شدت پسندانہ نیٹ ورک مضبوط ہوئے اور یہ اثر پاکستان میں بھی محسوس ہونے لگا۔ 2001 میں امریکا کی قیادت میں نیٹو افواج نے طالبان حکومت ختم کی، لیکن طالبان کا نظریاتی اور عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر تحلیل نہیں ہوا۔
سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی برقرار رہی اور پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
2007 کے بعد پاکستان میں شدت پسندی کی سب سے نمایاں شکل تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ذریعے سامنے آئی۔ ٹی ٹی پی نے فوجی تنصیبات، تعلیمی ادارے اور شہری مقامات کو نشانہ بنایا۔
خودکش حملے اور بم دھماکے عام ہو گئے۔ پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں بڑے آپریشن کیے، جن میں ہزاروں شدت پسند مارے گئے، مگر مکمل خاتمہ نہ ہوا۔ اس دوران دہشت گردانہ نیٹ ورک کی منصوبہ بندی اور سرحدی پناہ گاہوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک مستقل سیکیورٹی خطرہ بن گئی۔
2021 میں افغان طالبان کی دوبارہ واپسی نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی۔ کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے شریعت کے سخت نفاذ کا اعلان کیا اور خواتین کی تعلیم و ملازمت پر پابندیاں عائد کیں۔
اس دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا، اور سیکیورٹی اداروں نے بارہا کہا کہ سرحد پار موجود عناصر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سماجی چیلنج بھی بن گئی۔
فروری 2026 تک کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ 27 فروری کو پاک فوج نے سرحد پار افغانستان میں مخصوص شدت پسند ٹھکانوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن کیا۔
فوجی ترجمان کے مطابق اس کارروائی میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز، اسلحہ کے ذخائر اور پناہ گاہیں تباہ کی گئیں۔ اس آپریشن میں پاک فوج کے جوانوں نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا، متعدد اہلکار زخمی ہوئے، لیکن دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا۔
افغان طالبان کی انتظامیہ نے اس کارروائی کی مذمت کی اور شہریوں کے جانی نقصان کا دعویٰ کیا۔ بیانات کی شدت میں اضافہ ہوا اور سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔27 فروری 2026 کے آپریشن نے واضح کردیا کہ سرحد پار دہشت گردی اب ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
پاک فوج نے دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ان کی مستقبل کی کارروائیوں کی صلاحیت محدود ہوئی۔
فضائی حملوں کے ذریعے6 5 سے زائد اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، افغان فورسز کے 192 ٹینک اور آرمڈ گاڑیاں تباہ کی گئیں اور دہشت گردوں کے تربیتی مراکز مکمل طور پر ختم ہوئے۔
تادم تحریر اب تک آپریشن میں 464 شدت پسند ہلاک اور 665 سے زائد زخمی ہوئے، جس نے سرحدی علاقوں میں عارضی استحکام پیدا کیا۔
1979 سے 2026 تک کا جائزہ لینے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان مہاجرین کی آمد، سرحدی دہشت گردی اور داخلی سیکیورٹی چیلنجز ایک تسلسل میں جڑے ہیں۔
ابتدا میں افغان مہاجرین کی میزبانی انسانی ہمدردی اور علاقائی ضرورت کے تحت کی گئی، مگر غیر قانونی اسلحے، منشیات اور شدت پسند نظریات نے کچھ عناصرکو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کے مواقعے فراہم کیے۔
2000 کی دہائی میں ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں نے اس خطرے کو بڑھا دیا۔
سرحدی دہشت گردی صرف عسکری مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور نظریاتی پہلو بھی رکھتی ہے۔ مہاجرین کی اکثریت پرامن رہی، مگر غیر دستاویزی قیام اورکچھ عناصرکی دہشت گردی میں شمولیت نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا۔
پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ادارے مسلسل کارروائیوں کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورک کو کمزورکرنے سے بڑا چیلنج سرحدی دہشت گردی، طالبان کی موجودگی اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں ہیں۔
دیرپا استحکام کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات، سرحدی نگرانی، مہاجرین کی رجسٹریشن اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں۔
موثر سرحدی نظم و نسق، افغان حکومت کے ساتھ مستقل مذاکرات اور عالمی برادری کی مدد سے انسداد دہشت گردی کی جامع حکمت عملی اختیار کی جائے تو نہ صرف داخلی سیکیورٹی مضبوط ہوسکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
چار دہائیوں کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ افغانستان میں ہونے والی جنگیں اور سیاسی عدم استحکام پاکستان کی داخلی سلامتی پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس دوران پاکستانی فوج نے ہر مرحلے پر قربانی اور منصوبہ بندی کے ذریعے دہشت گردانہ نیٹ ورک کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ 27 فروری 2026 کی کارروائی اس مستقل کوشش کی عکاسی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ عزم، قربانی اور مؤثر آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزورکیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال ایک پیچیدہ، تاریخی اور مسلسل بدلتی ہوئی حقیقت ہے۔ عسکری کارروائیاں وقتی دباؤ توکم کر سکتی ہیں، مگر دیرپا امن کے لیے سیاسی استحکام، معاشرتی نظم و نسق اور علاقائی تعاون لازمی ہیں۔
مستقبل میں داخلی سلامتی اور سرحدی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی، موثر نگرانی، مہاجرین کی مکمل رجسٹریشن اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینی ہوگی۔