اسرائیل کا بیروت کے مصروف ہوٹل پر فضائی حملہ، 4 افراد جاں بحق

لبنان اس علاقائی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر حملے کیے

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ہوٹل پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق یہ حملہ شہر کے مرکزی علاقے راوشے (Raouche) میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

راوشے بحیرۂ روم کے ساحل کے قریب ایک مشہور سیاحتی علاقہ ہے جہاں کئی ہوٹل واقع ہیں۔ جاری جنگ کے باعث ان ہوٹلوں میں بڑی تعداد میں وہ افراد بھی مقیم تھے جو جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافاتی علاقوں سے نقل مکانی کر کے آئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی ایلیٹ قدس فورس کے اہم کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کمانڈروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

اسرائیل کے مطابق یہ کمانڈر لبنان میں موجود قدس فورس کے نیٹ ورک کے ذریعے اسرائیل اور اس کے شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

لبنان اس علاقائی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر حملے کیے۔ یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کیے گئے، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں مارے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک ایران میں 1300 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ لبنان کے مختلف علاقوں میں بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔

لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی لبنان میں رات کے دوران تین الگ حملوں میں کم از کم 12 افراد شہید ہوئے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں مزید فضائی حملوں کا اعلان کیا ہے، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور سرحدی علاقوں پر راکٹ حملے کیے ہیں جبکہ سرحد کے قریب جھڑپیں بھی جاری ہیں۔

لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ ملک کو ایک ایسی تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے جسے لبنان نے نہ تو شروع کیا اور نہ ہی اس کا انتخاب کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی انسانی اور سیاسی سطح پر سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

Load Next Story