صرف سرکاری خزانہ بڑھ رہا ہے

کراچی انتظامیہ میں فعال اسسٹنٹ کمشنروں کی چیکنگ سے سرکاری خزانہ زیادہ بڑھا

m_saeedarain@hotmail.com

کراچی میں حسب سابق کمشنر کی ہدایت پر انتظامیہ جاگی ہوئی ہے جو گیارہ ماہ سونے کے بعد صرف رمضان المبارک کے موقع پر جاگتی ہے مگر اس پر کمشنر کراچی کے سخت اقدامات پر اسسٹنٹ کمشنر پہلی بار جتنے فعال ہوئے ہیں۔

مگر ماضی میں وہ اتنے فعال کبھی نظر نہیں آئے تھے مگر اب وہ نئی گاڑیاں ملنے اور موسم میں تبدیلی کے باعث ٹھنڈے کمروں سے نکل کر مارکیٹوں اور بازاروں میں نکلے ہوئے ہیں۔

گراں فروشوں کے خلاف یکم رمضان سے شروع ہونے والی مہم پہلے عشرے تک تو بھرپور رہی جس کے نتیجے میں روزانہ لاکھوں روپے جرمانوں، گراں فروشوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور پہلے عشرے میں صرف کراچی میں گراں فروشوں پر دو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔

کراچی انتظامیہ میں فعال اسسٹنٹ کمشنروں کی چیکنگ سے سرکاری خزانہ زیادہ بڑھا مگر جیلیں اتنی نہیں بڑھیں کہ گراں فروش باز آ جاتے اور ان کی گرفتاریاں کم نظر آئیں۔

کراچی میں پہلی بار گراں فروشی کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنروں نے سرکاری نرخوں پر عمل نہ کرنے والوں پر نہ صرف بھاری جرمانے کیے بلکہ گراں فروش گرفتار بھی کرائے اور ان کی دکانیں بھی سیل کرائی ہیں۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی خود گراں فروشی کے خلاف مہم کی نگرانی کر رہے ہیں اور انھوں نے ہدایت کی ہے کہ کراچی انتظامیہ کے تمام افسران فیلڈ میں رہیں اور سرکاری نرخوں پر عمل کرائیں اور چھوٹی مارکیٹوں کے ساتھ ہول سیل مارکیٹوں کا بھی دورہ کریں کیونکہ گراں فروشی جرم ہے۔

کراچی میں گراں فروشی کے خلاف جاری مہم میں دسویں روزے کو مجسٹریٹوں نے 13 سو تیس مقامات پر اشیا کی قیمتیں چیک کیں اور 309 مقامات پر اپنی نگرانی میں سرکاری نرخوں پر اشیا کی نیلامی کرائی جو ایک مثبت قدم ہے۔

اشیا کی نیلامی پہلی بار سرکاری نگرانی میں ہوئی اور ایک روز میں صرف 31 گراں فروش گرفتار، 21 لاکھ روپے جرمانہ اور صرف 11 دکانیں سیل ہوئیں۔ گراں فروش ریٹیلرز ہمیشہ مہنگائی کا جواز پیش کرتے ہیں کہ آگے یعنی ہول سیل مارکیٹوں سے مال مہنگا مل رہا ہے اس لیے ہم بھی مال مہنگا فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

گراں فروشوں کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انتظامیہ صرف چھوٹی مارکیٹوں اور بازاروں میں نرخ چیک کرکے کارروائی کرتی ہے مگر ہول سیل مارکیٹوں میں جا کر نرخوں کا جائزہ نہیں لیتی اور جرمانے اور سزا صرف ریٹیلرز کو دیتی ہے جب کہ گرانی کے اصل ذمے دار ہول سیلرز ہیں۔

ریٹیلرز کے اس جواز میں کسی حد تک سچائی ضرور ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف پھلوں اور سبزیوں کی ہول سیل مارکیٹ جو سپر ہائی وے پر واقع ہے وہاں ہول سیل میں مال خرید کر ریٹیل میں پھل اور سبزی فروخت کرتے ہیں ان کے نرخوں میں اندرون شہر فروخت کی جانے والی سبزیوں اور پھلوں میں نمایاں فرق ہے اور ہول سیل مارکیٹوں سے نیلامی میں مال دونوں ہی خریدتے ہیں جو زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔

اندرون شہر مال خرید کر لے جانے والوں کو ٹرانسپورٹ کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جب کہ ہول سیل مارکیٹ میں ریٹیل میں فروخت کرنے والے ٹھیلے کرائے پر لیتے ہیں جن کا کرایہ شہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے اور وہ وہیں سے مال خرید کر وہیں مال فروخت کرکے معقول منافع کما لیتے ہیں۔

جب کہ اندرون شہر ٹرانسپورٹ کے ذریعے مال لانے والے متعدد دکاندار الگ الگ گاڑیوں میں مال شہر نہیں لاتے بلکہ مل جل کر گاڑی کرکے مال اپنی اپنی دکانوں پر لاتے ہیں مگر ہول سیل مارکیٹ کے ریٹیلرز کے مقابلے میں تقریباً دو گنی قیمت پر مال فروخت کرتے ہیں اور اندرون شہر کی دکانوں کے نرخ بھی مختلف ہوتے ہیں۔

مگر بعض گراں فروش گاہکوں کو لوٹنے کے عادی ہوتے ہیں جن کی تعداد زیادہ مگر اندرون شہر مناسب منافع لینے والوں کی تعداد کم ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو گاہکوں کو لوٹنے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ خدا خوفی کرکے مناسب نرخ وصول کرتے ہیں۔

اندرون شہر پھل و سبزی کی جو چھوٹی مارکیٹیں ہیں وہاں کے نرخ اندرونی بازاروں اور گلیوںکے مقابلے میں پھر بھی کم ہیں۔

ان چھوٹی مارکیٹوں میں انتظامیہ ضرور چھاپے مارتی ہے مگر اندرون شہر ان گراں فروشوں کو انتظامیہ کے چھاپوں کا کوئی خوف نہیں اور نہ ہی ان کے پاس نرخوں کی سرکاری فہرست ہوتی ہے اور وہ من مانے نرخوں پر اشیا فروخت کرتے ہیں اور انتظامی چھاپوں سے محفوظ رہتے ہیں اور لوگ قریب ہونے کی وجہ سے ان گراں فروشوں سے خریداری پر مجبور ہیں۔

 ماہ رمضان میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے سلسلے میں پنجاب میں شہریوں کا کہنا ہے کہ گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزوںکے خلاف زیرو ٹالرنس ہے۔

پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں کنزیومر پروٹیکشن پر کام ہو رہا ہے دوسرے صوبوں میں یہ شعبہ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے پنجاب میں گراں فروشوں کا کچھ سدباب ضرور ہوا ہے اور وہاں رمضان کے علاوہ بھی روزانہ ہی سبزی و پھلوں کے سرکاری نرخ مقرر کیے جاتے ہیں اور ریڑھیوں پر بھی نرخوں کی فہرستیں آویزاں نظر آتی ہیں۔

مگر کراچی تک میں ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔ رمضان میں پھل و سبزی کے نرخوں پر انتظامیہ توجہ دیتی ہے مگر روز مرہ کے استعمال میں آنے والی اشیا کے علاوہ کپڑے، گارمنٹس اور عیدین پر زیادہ فروخت ہونے والی اشیا من مانے نرخوں پر فروخت کی جاتی ہیں اور لوگوں کو جی بھر کر لوٹا جاتا ہے مگر انتظامیہ کی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے جس کی طرف حکومت کو توجہ دے کر ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔

Load Next Story