سرکاری ملازمین خواہ ان کا تعلق وفاق سے ہو یا صوبے سے ، رٹائرمنٹ کے بعد مالی مسائل کا شکار رہتے ہیں ۔ رٹائرمنٹ کے بعد پنشن و دیگر واجبات بشمول گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ وغیرہ ہر رٹائرڈ ملازم کا حق ہے مگر اب برسر اقتدار حکومتیں اس آئینی حق کو ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
سید ذوالفقار شاہ اور ڈاکٹر سعید نے رٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے ایک منظم جدوجہد کا عزم کیا۔ ان صاحبان نے حکومت سندھ، بلدیاتی اداروں اور پی آئی اے کے رٹائرڈ ملازمین اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور رٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے لیے عدالتوں میں مقدمات لڑنے والے وکلاء کو ایک سیمینار میں مدعو کیا۔
اس سیمینار میں مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے غریب ملازمین کے چند مسائل اور مصائب بیان کیے تو یہ حقیقت اجاگر ہوئی کہ رٹائرڈ ملازمین کا تعلق وفاق سے ہو یا صوبائی محکموں سے یا بلدیاتی اداروں سے ان کے حالات بالکل ایک جیسے ہیں۔
سید ذوالفقار علی شاہ نے اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے رٹائرڈ ملازمین گزشتہ 20 برسوں سے پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں ، پنشن اور واجبات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوا تھا مگر ادائیگی کا معاملہ سست رفتاری کا شکار رہا اور اب بھی 10 ہزار رٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن اور بقایا جات سے محروم ہیں۔
اسی طرح 27 ہزار پنشنرز کو 2019، 2020 اور 2025 میں پنشن میں اضافے کی رقم نہیں ملی ہے، یوں انھیں 23 فیصد کم پنشن مل رہی ہے۔
ٹاؤنز کے رٹائرڈ ملازمین کو عدالتوں میں مقدمات لڑنے پڑے۔ انسانی مسائل کی اہمیت کو محسوس کرنے والے وکلاء ندیم شیخ اور سلیم مائیکل یہ مقدمات لڑرہے ہیں۔
ان وکلاء کے عزائم بلند ہیں۔ انھیں امید ہے کہ جلد ہی ان ملازمین کو ان کا جائز حق مل جائے گا۔ مثبت بات یہ ہے کہ وزیر بلدیات نے واضح احکامات جاری کیے ہیں مگر ابھی تک ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔
اس سیمینار میں شرکت کے لیے عبدالکریم قریشی خاص طور پر حیدرآباد سے تشریف لائے۔ عبدالکریم قریشی نے حیدرآباد کے ملازمین کے مصائب بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ حیدرآباد کے 745 رٹائرڈ ملازمین جن کا تبادلہ ٹاؤنز میں کیا گیا تھا، گزِشتہ 4 ماہ سے پنشن سے محروم ہیں۔ پی آئی اے رٹائرڈ ملازمین کے حوالے سے بھی صورتحال واضح نہیں ہے۔
ان رٹائرڈ ملازمین میں اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، پائلٹ اور ایئر ہوسٹس وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر تو امریکا، یورپ اورکینیڈا منتقل ہوگئے مگر چھوٹے ملازمین کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔
رٹائرڈ ملازمین کی بہبود کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنما محبوب الٰہی نے اپنی تقریر میں کہا کہ رٹائرڈ ملازمین کا پہلا مطالبہ ہے کہ پنشن فنڈ کا غیر جانبدار آڈٹ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے کرایا جائے اور اس آڈٹ رپورٹ کو عام کیا جائے۔
اب پی آئی اے کے ملازمین اور رٹائرڈ ملازمین کو ملنے والی طبی سہولت کو انشورنس کمپنی کے سپرد کیا گیا ہے، طبی سہولت کو اب 5 لاکھ تک کی رقم تک محدود کردیا گیا ہے۔
یہ رقم رٹائرڈ ملازم اور اس کی اہلیہ کے لیے کم ازکم 10لاکھ ہونی چاہیے۔ ہنگامی صورتحال میں بوڑھے افراد کو اسپتال میں داخل ہونے کے لیے پیشگی منظوری لینی پڑتی ہے جس سے رٹائرڈ ملازمین کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے رٹائرڈ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی نمائندگی کرنے والے راقم الحروف نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں 2017ء سے رٹائر ہونے والے ملازمین کو واجبات ادا نہیں کیے گئے۔
اسی طرح 4ماہ سے پنشن بھی ادا نہیں کی جا رہی۔ اردو یونیورسٹی کے رٹائرڈ ملازمین کے لیے طبی سہولتیں بھی بند کردی گئی ہیں۔ اس دوران 10 رٹائرڈ اساتذہ اور 5 سے زیادہ دیگر ملازمین انتقال کرچکے ہیں۔
وفاقی محتسب نے ایک فیصلے میں لکھا ہے کہ اردو یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں تقریباً 67 کروڑ روپے موجود ہیں جو وفاقی انفارمیشن کمیشن کی اطلاع کے مطابق یہ رقم ایک ارب سے زیادہ ہوگئی ہے۔
وفاقی محتسب نے حکم دیا تھا کہ اس رقم سے اساتذہ اور رٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کیے جائیں مگر اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال پاکستان ریلوے اور اسٹیل ملز کے رٹائرڈ ملازمین کو درپیش ہے۔
جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا تھا تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ رٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی ادائیگی کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا تھا۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد نئی ریاست نے اس قانون کی پاسداری کی۔
مختلف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اپنے اپنے فیصلوں میں پنشن کو رٹائرڈ ملازمین کا لازمی حق قرار دیا۔ اس ملک میں رٹائرڈ افراد کے لیے پنشن کے علاوہ کوئی دوسری سہولت موجود نہیں ہے۔
آئی ایم ایف کے دباؤ پر پنشن کو بجٹ میں بوجھ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بوجھ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے۔ دیگر ممالک کی طرح ریاست کو 18 سال کے ہر پاکستانی شہری کو پنشن دینی چاہیے۔
اب گزشتہ 20 برسوں میں برسر اقتدار حکومتیں اپنے اس فریضہ کو ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں ایسے چند ارکان موجود ہیں جو رٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے رکن سینیٹر مسرور احسن، سینیٹر وقار مہدی اور نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان بلیدی نے بار بار اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے مگر ان اراکین کی بات حکومت کے پالیسی بنانے والے سننے کو تیار نہیں ہیں۔ اس مسئلہ کا حل مسلسل جدوجہد میں ہی مضمر ہے۔